انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 225

انوار العلوم جلد 1 ۲۲۵ نجات مسیحیوں یا یہودیوں اور مسلمانوں میں اس قسم کے مباحثات بہت سے مقام پر مشاہدہ میں آسکتے ہیں۔ مگر پھر بھی کامل جوش کے ساتھ نہیں کیونکہ مسیحی یا مسلمان تو یہودیوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔ مگر جب یہی مباحثات مسلمانوں اور مسیحیوں یا مسیحیوں اور آریوں کے درمیان دیکھے جائیں تو بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تینوں قومیں ایک دوسرے کو اپنے اندر شامل کر لینا جائز حق نہیں بلکہ ثواب کا کام سمجھتی ہیں اور اس لئے چاہتی ہیں کہ جس طرح ہو اپنے مد مقابل کو بھی اپنا ہم زبان بنالیں ایک مسلمان چاہتا ہے کہ کل مسیحی بھی مسلمان ہو جائیں۔ اور ایک مسیحی چاہتا ہے کہ کل مسلمان بھی مسیحی ہو جائیں ۔ اور اسی طرح ایک آریہ ان دونوں گروہوں کی نسبت ایسے ہی خیال رکھتا ہے۔ گو میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ تینوں کے محرکات مختلف ہوں۔ مثلاً کوئی تو اس لئے چاہتا ہو کہ خدا تعالیٰ کا فضل میری طرح سے دیگر بنی نوع انسان پر بھی نازل ہو۔ اور وہ بھی حقیقی نجات سے بہرہ ور ہوں۔ اور دوسرا اس لئے کہ مشرق میں ہمارا قدم خوب مضبوطی سے جم جائے ۔ اور تیسرا اس لئے کہ ہمارے حق میں ووٹ دینے والوں کی کثرت ہو جائے۔ اور کونسلوں میں ہمارے ممبر کثرت سے ہوں۔ اور ہماری پولیٹیکل عزت بڑھ جائے۔ مگر اس جگہ ہم کو اس سے بحث نہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے محرکات کیا ہیں ۔ بلکہ ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی خیال کے ماتحت یہ تینوں مذاہب تمام دنیا کو اپنے خیالات میں رنگین کرنا چاہتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں تینوں گروہوں میں آپس میں زیادہ مباحثات ہوتے ہیں۔ پس اگر ثابت ہو جائے اور مسیحی اس بات کو مان لیں کہ ہمارے مذہب میں دوسرے لوگوں کا شامل کرنا جائز نہیں۔ تو فورا ان کا یہ جوش و خروش جا تا ر ہے۔ اور سب پادری اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ اور اگر آریہ اپنے سناتن دھرمی بھائیوں کی طرح شدھی کا ناجائز ہونا یقین کرلیں تو ابھی ان کی یہ تمام تیزی جاتی رہے۔ اور یہ جس قدر مذہبی رسالے اور اخبار نکل رہے ہیں ایک ایک کر کے سب بند ہو جائیں۔ اور کل مذہبی مباحثات یک قلم موقوف ہو جائیں۔ پس جب یہ بات ہے تو میں بھی اس مضمون کے شروع کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا۔ ضروری سمجھتا ہوں کہ آیا مسیحیوں کو ہم سے مباحثات کرنے اور ہم کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی اجازت بھی ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں تو پھر کسی اور بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور اسی طرح