انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxv
انوار العلوم جلدا ۱۵ تعارف کتب مامور کے اور کوئی ہرگز نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد بطور اتمام حجت آپ نے مسیح و مہدی کی مشہور و مسلم علامات کا پورا ہونا ثابت فرمایا اور حضرت مسیح موعود کو قبول کرنے کی دعوت دی۔ (۱۶) دس دلائل ہستی باری تعالی اس رسالہ میں جو مارچ ۱۹۱۳ء میں طبع ہوا آپ نے دہریوں کے ایک اہم ! اہم اعتراض کہ اگر خدا ہے تو ہمیں دکھا دو ہم مان لیں گے " کے جواب میں ارشاد فرمایا ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزوں پر ہم حواس خمسہ کے ذریعہ ہی یقین نہیں رکھتے۔ یعنی خوشبو بد بو اور آواز اسی طرح کی بہت سی چیزیں ہم ایک خاص جس کے ذریعہ محسوس کرتے ہیں لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر ہم یقین رکھتے ہیں لیکن حواس خمسہ کے ذریعہ نہیں جیسے عقل ، حافظہ ، طاقت وغیرہ جب ہم ان اشیاء پر بعض اور ذرائع سے یقین رکھتے ہیں تو خدا جو کہ لطیف ہی نہیں بلکہ الطف ہے اس کا علم حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی قیود کس طرح جائز ہو سکتی ہیں۔ خدا تعالی کی ہستی پر یقین رکھنے کے لئے بعض اور ذرائع اور دلائل ہیں آپ نے درج ذیل دس دلائل ہستی باری تعالی تحریر فرمائے: دلیل اول: دنیا کے تمام مذاہب اسلام، مسیحیت یهودیت بدھ ازم زرتشتی ، ہندوازم ایک خدا ایلو ہیم، پرم ایشور پرم آتما یا یزدان کے قائل ہیں اس قدر دور دراز قوموں اور ملکوں کا اس امر پر اتفاق اس امر کی دلیل ہے کہ سب دنیا خدا کی کسی جلوہ گری کو دیکھ کر ہی اس کی قائل ہوتی ہے۔ دلیل دوم: ہر قوم اور مذہب میں خدا کی ذات پر گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں جو قوم کے انتہائی برگزیدہ اور منتخب اشخاص ہیں ان ہزاروں راستبازوں کی گواہی جو اپنے عینی مشاہدے پر دیتے ہیں کسی طور پر رد کے قابل نہیں ہے۔ رد دلیل سوم: فطرت انسانی خود خدا کی ہستی پر دلیل ہے۔ کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں جن کو فطرت انسانی ناپسند کرتی ہے۔ اور یہ ناپسندیدگی یقینا کسی بالائی طاقت کے اثر کے نتیجہ میں ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا فَا لَهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقْو ها یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الهام کر دیا ہے۔