انوارالعلوم (جلد 1) — Page 219
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم نجات کافلسفہ تمہيدمیں اس مضمون کے شروع کرنے سے پہلے اسی قدر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ اس وقت غیرمذاہب کو اپنے مذاہب کی طرف بلانے والے تین ہی گروہ ہیں۔اول مسلمان دوم مسیحی اور سوم آریہ اس لئے میں اس مضمون میں سب سے پہلے فلسفہ نجات پر جو کچھ اسلام نےروشنی ڈالی ہے۔اس کو ایک حد تک مفصل بیان کروں گا۔اور بعد ازاں مختصر طور سے غیرمذاہب کے بیانات پر کچھ تنقید کروں گا۔اور سچے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے بعد غیرمذاہب کے دلائل کو توڑنے کی چنداں ضرورت بھی نہ ہوگی۔کیونکہ جب اسلام کا دعویٰ دلیل قطعیہ سے ثابت ہو گیا۔تو پچھروو سرے مذاہب آپ ہی باطل ہو گئے۔اتنا لکھنے کے بعد میں اور امراو ر بھی کھول دینےضروری سمجھتا ہوں۔دعوی بادلائل ہواول تو یہ کہ تینوں مذاہب جن کا میں ذکر کر آیا ہوں اپنے خیالات اوردعادی کی بناء ایک الہامی کتاب پر رکھتے ہیں کہ جس کی نسبت ان کایقین واثق ہے کہ وہ خدائے علیم و خبیرکی طرف سے ہے۔پس جبکہ تینوں مذاہب کا یہی خیال ہے اور وہ اس پر پکے ہیں اور جو ان کی کتاب پر شک کرے اور اسے جھوٹا کہے وہ اس کو دروغ گو اور نادان کہتے ہیں۔تو پھر ضروری ہے کہ ہر ایک مدعی اپنے مذہب کی طرف جو کچھ منسوب کرے اس کا دعویٰ اور دلیل اسی الہامی کتاب میں سے پیش کرے۔کیونکہ جب وہ کتاب اپنے اندر کامل ہو اور ہر قسم کے دعاوی جو اس مذہب کے قیام کے لئے ضروری ہوں اس کے اندر موجود ہوں۔اور نہ صرف دعادی ہی بلکہ دلائل بھی وہ خودہی دیتی ہو۔کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک بات خد اتو بھول گیا اور اپنی کتاب میں درج کرنے سے قاصر رہامگر انسان اس کی مدد کے لئے اٹھا۔اور اس نے اس