انوارالعلوم (جلد 1) — Page 218
ارادہ تو میرا اس مضمون پر کچھ لکھنے کامدت سے تھا۔مگر ایک عرصہ سے طبیعت کچھ علیل رہی ہے۔چنانچہ اول تو قریب ایک ماہ تک کسی قدر بخار ہو تارہا اور سخت سردر د کاردو رہ رہا۔اب کوئی ہفتہ بھر سے کھانسی ہو رہی ہے۔مگر اس خیال سے کہ آخر یہ کام کرنا تو ہے ہی خدا تعالیٰ کے بھروسہ پرشروع کرتا ہوں۔اگر منشائے الہیٰ ہو گا تو پورا ہو رہے گا۔اس علالت طبع کی وجہ سے ہی قدامت ماده کا مضمون بھی شروع نہ کر سکا۔حالانکہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ تک شروع کر دیا جائے گا شایدایک دو ماہ اس میں اور توقف پڑ جائے۔والله اعلم بالصواب چونکہ یہ مضمون سلسلہ وار نکلے گا( انشاء اللہ ) اس لئے جملہ خریداران رسالہ سے التجا ہے کہوہ اس کو سنبھال کر رکھیں تو آخر میں انشاء اللہ ایک چھوٹی سی کتاب بن جائے گی۔اور ممکن ہے کہ کی وقت کوئی سعید روح اس سے فائدہ اٹھائے۔وما علینا الا البلاغ راقم خاکسار مرزا محموداحمد