انوارالعلوم (جلد 1) — Page 211
خوفٌ عليهم ولا هم يحزنون (البقرہ: ۳۹) یعنی ان کو نہ کچھ خوف رہتا ہے اور نہ غم او ر وہ خدائے تعالیٰ کی عنایات کا خوشگوارپھل کھاتے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ بہشتی کہیں گے کہ هذا الذي رزقنا من قبل (البقره :۲۶ )یعنی یہ مزہ تو ہم دنیا میں بھی کامیابی کے رنگ میں چکھ چکے ہیں جوکہ اب اگر مکمل طور سے اٹھارہے ہیں۔غرض کہ ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اول تو اپنی کلّی صفات کامجملاً ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ کالفظ ہی ان تمام صفات پر دلالت کرتا ہے جو کہ خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور جو ہرقسم کی نیکی پرمشتمل ہیں اور ہر قسم کی بدی سے مبّرا ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں مختلف جگہ پر آتا ہے کہ ان الله تواب رحيم( النور:۱۱) اور ان اللہ رءوف رحیم(النور:۲۱) سوره انفال میں ان اللہ سمیع علیم ، ق(الانفال: ۸ا)حج میں ان الله سمیع بصیر(الحج ۷۶) بقرہ میں ان الله شدید العقاب البقره :(۱۹۷) تو بہ میں ان اللہ علام الغیوب (التوبہ ۷۸ )مائدہ میں ان الله غفور رحیم( المائده: ۳۵)مجادلہ میں ان اللہ لعفو غفور (المجادله ۳)حج میں ان اللہ لھو الغنی الحمید – (الحج : ۶۵)زاریات میں ان اللہ ھو الرزاق( الذاریات : ۵۹) حج میں ان الله لقوی عزیز(الحج ۷۵،۴۱)ال عمران میں والله يحي ويمیت ( آل عمران : ۱۵۷) اور سورہ حشر میں اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ (الحشر: ۲۴-۲۵) غرض یہ کہ اول تو لفظ اللہ میں مجملاً اور پھر رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ(الفاتحہ ۳-۴-۵ )میں ذرا کھول کر وہ تمام خوبیاں بیان کر دی گئی ہیں کہ جو اللہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں اور کل بدیوں سے اسے مبرّا کر دیا ہے سوجیساکہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ سچے مذہب کی نشانی یہ ہے کہ وہ انسان کو خدائے تعالیٰ سے محبت پیداکرائے نہ کہ نفرت سو رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ( الفاتحہ ۳،۴،۵) سے بڑھ کر اور کوئی راہ نہیں کہ انسان کو خدا سے تعلق پیدا کروایا جائے۔کیونکہ انسان فطری طور سے ایسا محبوب چاہتا ہے کہ جو خوبصورت اور خوب سیرت ہو اور کوئی مذہب نہیں جس نے خدا کو ایساپاک اور پیار اور محسن دکھایا ہو جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے اور چونکہ وہ ہستی جس نےاس کار خانہ کو اس خوبی سے چلایا ہوا ہے سب سے زیادہ کامل چاہئے اور سب صفات حسنہ اس میں پائی جانی چا ہیں تاکہ وہ ناقص نہ رہ جائے اس لئے سچے مذہب کا فرض ہے کہ وہ ان تمام صفات حسنہ کو پیش کرے اور خدائے تعالیٰ کو اصلی اورسچے رنگ میں لوگوں کو دکھائے نہ کہ ایسے رنگ میں