انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 210

انوار العلوم جلد ! ۳۱۰ دین اثر شروع کرتی ہے اور وہ شخص جو ربوبیت کے اسرار پر واقفیت حاصل کر لیتا ہے خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کا عشق اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور تمام دنیا کے تعلقات توڑ کر وہ بس اسی کا ہی ہو جاتا ہے اور ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ پس جبکہ ایسی حالت اس کی ہو جاتی ہے تو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں الرحیم بھی ہوں یعنی جو میری راہ میں کوشش کرتے ہیں ان کی خاص طور سے مدد کرتا ہوں چنانچہ فرمایا ہے کہ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوب ف رحیم ( التوبه : ۱۲۸) اور ایک دوسرے موقعہ پر اس کی اور بھی تشریح کی ہے کہ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم : ۴۸) یعنی جب صفت ربوبیت سے انسان کا دل خدا ہی کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کی رحمانیت کو دیکھ کر وہ دنیا سے قطع تعلق کر کے ہمارا ہی ہو جاتا ہے تو اس وقت ہم اس پر صفت رحیمیت کا پر تو ڈالتے ہیں اور وہ ہمارے حضور میں محبوب ہو جاتا ہے اور اس وقت کے بعد اس کی مدد اور دستگیری ہم پر فرض ہو جاتی ہے اور ہم اس کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر میدان اور وادی میں اس کو فتح دیتے ہیں اور اس کے مخالفین کو ہلاک کرتے ہیں اور اس کے دوستوں کو عزت اور اقبال دیتے ہیں اور جو کوئی اس کا دشمن ہو وہ ہمار دشمن ہو جاتا ہے اور ہماری غیرت اس کے لئے بہت بڑھ جاتی ہے۔ اور ہم اس کے لئے آسمان سے برساتے ہیں اور زمین سے نکالتے ہیں اور گویا یہ زمین و آسمان ہی نہیں رہتا بلکہ ایک اور زمین اور نیا آسمان ہم اس کے لئے پیدا کر دیتے ہیں اس کے بعد خدائے تعالٰی نے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفت بیان فرما کر بتایا ہے کہ جب وہ شخص ہمیں اس قدر پیارا ہو جاتا ہے تو پھر ہم اس کی شان اور مرتبہ کے مطابق ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ جس سے اس کے مخالفین ہلاک ہو جاتے ہیں اور فتح و نصرت ان لوگوں کے نام پر ہوتی ہے چنانچہ جیسا موقعہ ہو جسمانی طور سے خواہ روحانی طور سے ان کو دنیا کا مالک بنا دیا جاتا ہے چنانچہ ایک اور جگہ پر فرمایا کہ الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِأَيْتِنَا فَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (الحج: ۵۷-۵۸) یعنی جب کہ انسان ترقی کرتا کرتا ہمارا پیارا ہو جاتا ہے تو ہم اس کے اور اس کے مخالفین کے لئے ایک فیصلہ کا دن بناتے ہیں جس میں کہ ہم خاص طور سے اپنا جلال ظاہر کرتے ہیں اور ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں چنانچہ جو ہمارے نیک بندے کے احباب ہوتے ہیں وہ تو اس دن بڑے امن اور چین کی حالت میں ہوتے ہیں اور مخالفین خائب و خاسر ہو کر غم و غصہ اور ناکامی اور ذلت کی آگ میں جلتے ہیں اور یہ دنیا ہی ان کے لئے دوزخ ہو جاتی ہے۔ اور مؤمن اسی دنیا میں جنت کا مزہ چکھ لیتے ہیں چنانچہ فرمایا کہ لا