انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 209

گئی۔پس اللہ تعالیٰ کی کیسی کیسی برکات ہیں کہ جن سے ایسی ایسی اعلیٰ اور کامل مخلوقات پیدا ہوتی ہیں۔غرض کہ یہ تو انسان کی ایک مثال ہے ہر ایک چیز دنیا کی اس صفت کے ماتحت ترقی کر رہی ہےاور غور کرنے والے انسان کے لئے کثیر نفع کا باعث ہو سکتی ہے چنانچہ ہم ایک بڑکو دیکھتے ہیں کہ اس کابیج ایک رائی کے دانہ کے برابر ہوتا ہے مگر جب خدائے تعالیٰ کی صفت ر بوبیت کے ماتحت آتا ہےاور بڑھنا شروع ہوتا ہے تو وہی رائی کے برابر دانہ اتنے بڑے درخت کی شکل میں تبدیل ہو جاتاہے کہ سینکڑوں آدمی اس کے سایے کے نیچے آرام کرتے ہیں غرض کہ کوئی چیز ہو بے جان ہو کہ جاندار، بڑی ہو کہ چھوٹی، ٹھوس ہو کہ سیال ،سخت ہو کہ نرم خدائے تعالیٰٰ کی صفت ربوبیت کےنیچے اپنا کام کر رہی ہے اور اگر ایک دم بھی وہ صفت اپناکام چھوڑ دے تو یک لخت سب کار خانہ بربادہو جائے۔چنانچہ سورج سے لے کر شہاب ثاقب تک اور پہاڑ سے لے کر ذرہ تک اور ہاتھی سےلے کر ایک مچھر تک ہر ایک چیز اور مخلوقات کا ایک ایک جزء لا يتجزأ اس کی ربوبیت کے نیچے ہےاور ہر جگہ پر اور ہر مقام پر اس کی یہ صفت اپنا کام کر رہی ہے تو پھرایساخداجو اس قدر کامل ہے اوراپنی اس صفت کی وجہ سے نہ صرف حسن بلکہ انسان میں بھی بے نظیر ہے کہ جسم کا مقابلہ کوئی ہستی نہیں کر سکتی تو پھر اس خدا کی حمد نہ کی جائے تو اور کس کی حمد کرنے پر انسان کا دل مائل ہو سکتا ہے۔پس الحمدللہ رب العلمین میں خدائے تعالیٰٰ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا کی ہر ایک چیز پر نظرڈال کر دیکھو کہ وہ میری صفت ربوبیت کے ماتحت چل رہی ہے اور کوئی چیز بغیر میری مدد کے قائم نہیں رہ سکتی اور کل حسنوں اور کل خوبیوں اور کل نیکیوں اور کل خوبصورتیوں اور کل احسانوں کامنبع میں ہی ہوں۔اور میری ہی ذات سے یہ تمام کارخانہ چل رہا ہے اور میں نے صفت ربوبیت کےماتحت ہر ایک چیز کو جو کہ ضروری ہے پیدا کر دیا ہے پس با و جو واس خوبی اور حسن اور احسان کےکون ہے جو میری حمد سے دل چرائے پس جیسا کہ انسانی دل حسن و احسان کو دیکھ کر بے اختیار محبت سے بھر جاتا ہے اس آیت کی تلاوت کے ساتھ ہی انسان کا دل خدا کی طرف جھکتا ہے اور اس کی محبت جوش مارتی ہے اور ایک خود رفتگی پیدا ہو جاتی ہے اور وفور عشق سے ایک ایا سردرد پیدا ہوجاتا ہے کہ جس سے انسان خدائے تعالیٰ کے احسانات کےذریعہ خود اس کی ہی زیارت کر لیتا ہےاور دل منور ہو جا تا ہے اور چونکہ ربوبیت ہر ایک چیز کو جو راستے کی رکاوٹ ہوتی ہے دور کرتی ہےاس لئے ایسے شخص کے دل پر ربوبیت اپنا خاص پر تو ڈالتی ہے اور وہ گناہوں سے پاک ہو جاتاہے اور اس کا ول ایک سکینت محسوس کرنے لگتا ہے تو ایسے وقت خدائے تعالیٰ کی صفت رحمانیت اپنا