انوارالعلوم (جلد 1) — Page 201
عورت کی طرف سے تھاچنانچہ پیدائش باب ۳ آ یت ۱۲میں ہے کہ آدم نے کہا کہ اس عورت نےجسے تو نے میرے ساتھ کر دیا تھا مجھے اس درخت سے دیا اور میں نے کھایا جس سے معلوم ہو تاہےکہ اصل گناہ کا منبع عورت تھی۔تو اس صورت میں مسیح کے بن باپ بیدائش سے تو اور بھی نقص لازم آتا ہے اور وہ بجائے اس کے کہ گناہ سے پاک ٹھہرے اور بھی گناہ میں ملوث ثابت ہوتاہےکیونکہ آدم کا ایک حصہ اس نے نہ لیا اور حوا کا وارث بنا۔کفارہ بے فائدہ نکلا اب آخر میں دو قطعی ثبوت پیش کرتا ہوں کہ کفارہ پرایمان لانے سےکوئی فائدہ نہیں۔اول تو یہ کہ مسیح نے کہا ہے کہ ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر یقین کرو اور شک نہ لاؤ تو نہ صرف یہی کر سکو گے جو انجیر کے درخت پر ہوا۔بلکہ اگر اس پہاڑ سے کہو گے کہ تو اکھڑ جا اور سمندر میں جا گر تو ویسا ہی ہوگا ( متی - ۲۱:۲۱) اب پادری صاحبان کل مسیحی ممالک سے زیادہ نہیں تو ایک آدمی ہی اس قسم کا پیش کردیں جواس قسم کا معجزہ دکھائے ورنہ یاتو کفارہ ہی غلط ثابت ہوا نہیں تو سب کے سب مسیحی صاحبان بے ایمان ثابت ہوئے۔دوسرا یہ کہ توریت میں ہے کہ آدم کو گناہ کے بدلہ میں خدا نے کہا کہ تو اپنے منہ کے پسینہ سے روٹی کھائے گا اورعورت درد زہ سے بچہ جنے گی پس اس کفار پر ایمان لانے کے بعد تو چاہئے تھا کہ مسیحی صاحبان ان دونوں عذابوں سے بچ جاتے لیکن مشاہده تو یہ ثابت نہیں کر تا پس جب کفارہ کا کچھ بھی فائدہ نہیں تواس کے پیش کرنے سے کیا فائدہ؟ ہم تمام مسیحی دنیا سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بے محنت روٹی کھاتے ہیں یا آپ کی عورتیں بغیر درد کے بچہ جنتی ہیں اگر ایسا نہیں تو پھر کفارہ نجات کا باعث ہرگزنہیں اور ہرگز نہیں۔پس اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ نجات اعمال سے ہی ہوتی ہے اور اعمال فضل کو حاصل کرتے ہیں اور اعمال کیلئے کامل شریعت کی ضرورت ہے اور جو شریت اپنے آپکو اعمال کا سدھارنے والا نہیں مانتی وہ ناقص ہے اور یہ کہ کفارہ کا نجات سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ نہ مسیح ؑخوشی سے صلیب پر چڑھا اور نہ وہ صلیب پر مرا جیسے کہ میں متی کے حوالہ سے بتا آیا ہوں کہ اس کازندہ رہنا زیادہ یقینی ہے اور یہ کہ نہ صرف کفارہ ایک لغو مسئلہ ہے بلکہ اس کا نتیجہ اب تک عیسائیوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ہم رحم کر کے اپنے سے کمزوروں کے گناہ بخشتے ہیں پس خدا بدرجہ اولیٰ بخشتاہے – و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين میرزا محموداحمد ( تشحیذالاذہان دسمبر ۱۹۰۹ )