انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 195

انوار العلوم جلد 1 ۱۹۵ نجات و سمبر 1909ء ملک پر پڑتا ہے ممکن ہے کہ ذرا سی غلطی میں کوئی تباہی آجادے اور دوسرے گورنمنٹ دلوں کی واقف نہیں کہ یہ شخص سچی توبہ کرتا ہے کہ نہیں تیسرے گورنمنٹ انسانی اجسام اور ارواح کی مالک نہیں ہوتی کہ سب گناہوں پر چشم پوشی کی اس کو طاقت ہو جیسے کہ اسلام میں ایک قاتل کو گور نمنٹ معاف نہیں کر سکتی ہاں مقتول کے وارث کر سکتے ہیں آخر میں یہ بات عرض کروں گا کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ گورنمنٹ معاف نہیں کرتی گورنمنٹ کرتی ہے اور سینکڑوں کو کرتی ہے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایسے صدہا واقعات ہوئے ہیں کہ اگر جوں نے معاف نہیں کیا تو صوبہ کے گور نر یا خود وائسرائے نے سزا معاف کر دی ہو۔ پھر آپ وہ بات کہتے کیوں ہیں کہ جو اصل میں غلط ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مسیح نے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں رحم ہی رحم کی تعلیم دی ہے عدل کو برباد کر دیا ہے۔ پس اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ گناہ معاف ہونے ضروری ہیں اور انسانی فطرت اس کو چاہتی ہے اور جو مذہب اس کے بر خلاف کہتا ہے وہ واقعہ و حقیقت سے محجوب ہے۔ غرض کہ گناہ کا معاف ہونا ضروری ہے اور عقل اس کو چاہتی ہے۔ اسلام نے اسے ایک اعلیٰ پیرا یہ میں بیان فرمایا ہے خود عیسائیوں نے اسے لیا ہے مگر ایک بھدے اور خطرناک رنگ میں۔ انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے اور گناہ معاف ہو سکتے ہیں اور کامل شریعت کے ذریعہ کامل جیسا کہ میں اوپر لکھ چکاہوں انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے معرفت حاصل کر کے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ اور جو شریعت انسان کو گناہوں سے بچاتی نہیں وہ ناقص ہے اور کسی کام کی نہیں پس کچی بات یہی ہے کہ گناہوں سے انسان کامل شریعت کی معرفت بیچ سکتا ہے اور وہ مذہب جو اس کے بر خلاف کہتا ہے وہ الزام سے بچنے کیلئے کہ میری قلعی نہ کھل جائے ایسا کرتا ہے اور انسانوں پر الزام دیتا ہے کہ تم ہی گندے ہو ورنہ میں تو پاک ہوں۔ کیا ایک پولیس مین کے سامنے چور چوری کرتا ہے ہرگز نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے نقصان پہنچے گا نہ اس لئے کہ اس کے لئے کوئی شخص پھانسی پر چڑھ چکا ہے۔ کیا ایک فوج کی موجودگی میں ڈاکو ڈاکہ ماریں گے کبھی نہیں نہ کسی کفارہ کی وجہ سے بلکہ اس لئے کہ ان سے بڑی طاقت وہاں موجود ہے جو ان کو سزا دے گی ۔ اسی طرح شریعت علاوہ اعمال حسنہ کے بتانے کے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اس قدر انسان پر روشن پر روشن کر دیتی ہے کہ وہ گناہ پر قادر ہی نہیں رہتا پس کیا پولیس مین کی آنکھ سے تو چور چوری کو چھوڑ سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی آنکھ کا کامل علم رکھتے ہوئے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ پس اصل بات یہی ہے کہ کامل معرفت انسان کو گناہ سے بچاتی ہے ورنہ تجسم کا سب ڈھکو سلا ہے اور وہ