انوارالعلوم (جلد 1) — Page 193
انوار العلوم جلد 1 ۱۹۳ نجات دسمبر 1909ء الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ( آل عمران : ۱۳۵) پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ انسان ٹوٹے میں - ٹوٹے میں ہے مگر ساتھ ہی آ۔ ساتھ ہی آپ نے یہ نہ دیکھا کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : ۴) پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ انسان کا دل وسوسہ پیدا کرتا ہے یہ بالکل غلط ہے ثبوت دو اور پھر یہ نہ دیکھا کہ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمُ (المائده : ۴) اور پھر ایک جماعت کے لئے رضی اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ بھی قرآن شریف میں ہے اور پھر شیطان کی نسبت فرماتا ہے کہ ان عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانُ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً (بنی اسرائیل : ۲۶) یعنی نفسانی و سادس انہی لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو گندے اور حق سے دور ہوں نیک لوگ اس سے بالکل پاک ہوتے ہیں پس اسلام نے ہرگز انسان کو گناہوں کا پتلا قرار نہیں دیا بلکہ ایک پاک مخلوق جو کہ جب راہ راست سے پھر جاتی ہے تو ناپاک ہو جاتی ہے اس طرح مسیح صاحبان کا وہ اعتقاد بھی برباد ہو جاتا ہے کہ گناہ انسان کو ورثہ میں ملا ہے۔ پھر پادری صاحب کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ ہم کو گناہ سے نفرت ہے اس لئے گناہ کی سزا اس کی سزا ضروری ملنی چاہئے اور چونکہ سزا نہ دینے سے عدل میں فرق آتا ہے اس لئے اس کی سزا ضرور دینی چاہئے ۔ یاد رہے کہ انسانی فطرت بخشش کو زیادہ چاہتی ہے جیسے کہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان ایک دوسرے کے قصوروں کو بخوشی بخش دیتے ہیں اور لاکھوں خطاؤں پر چشم پوشی کر دیتے ہیں پس اگر خدائے تعالیٰ ہر ایک ذرہ ذرہ سے گناہ کو پکڑے تو بڑا اعتراض آئے گا کہ بڑا سخت اور ظالم ہے کیونکہ دنیا میں بھی گناہوں پر چشم پوشی نہ کرنے والے لوگ ظالم ہی سمجھے جاتے ہیں ورنہ کسی کو حد سے زیادہ تکلیف دینے والے لوگ تو کم ہی ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر یہ بھی اعتراض آئے گا کہ کیسا سخت گیر ہے کہ عدل کی صفت پر تو چلتا ہے کہ میرے بندوں میں ہے تو مجھ میں کیوں نہ ہو مگر جو رحم اور بخشش کی صفت ہے اس سے بکلی محروم ہے تو ایسا خدا گویا اپنی پیدا کردہ مخلوق تباہ کر کے خوش ہوتا ہے۔ اسلام اس کے برخلاف بتاتا ہے کہ أَوْ يُوْ بِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ (الشورى : ۳۵) یعنی خدائے تعالیٰ چاہے تو گناہ گاروں کو ہلاک کر دے مگر وہ اکثر معاف کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر عدل صفت مانا جائے گا تو پھر مسیحیوں کا عدل کو مان کر مسیحیت کا خاتمہ مذہب برباد ہو جائے گا سنئے یسوع عدل کی مٹی خراب کرتا