انوارالعلوم (جلد 1) — Page 190
دلیل عقلی غور کر کے دیکھ لوچو نکہ انسان میں اصل میں نیکی کامادہ ہے اس لئے زیادہ تر کام اس کی نیکی کے ہوتے ہیں مثلًا ایک شخص جس کو جھوٹا کہا جا تا ہے وہ دن بھر میں سینکڑوں تو سچ بولتا ہے ہاں ایک دو جھوٹ بھی بول لیتا ہے اوران ایک دو جھوٹوں کی وجہ سےوہ جھوٹا کہلا تاہے اور یہ اس لئے کہ اس نے قانون فطرت کو توڑ دیا اور اصل راہ سے پھر گیا اس لئے جب انسان سچ بولتا ہے تو لوگ حیران نہیں ہوتے اور وہ ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے مگر جب کوئی جھوٹ بولے تو سب کے سب اسکی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا بکواس کرتا ہے۔چنانچہ ہمارے آنخضرت اﷺنے اس مسئلہ کو کیا خوب ادا کیا ہے اللهم نقني من خطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس جس سے معلوم ہوا کہ اصل میں انسانی دل سفید کپڑے کی طرح ہے اور پھر قرآن شریف میں بھی خدائے تعالیٰ ٰنے فرمایا ہے کہ فطرت الله التی فطر الناس عليها (الروم:۳۱) یعنی انسان کے خصائل اور ثنایا خدائے تعالیٰٰ کے اخلاق پرپیدا کئے گئے ہیں اور یہ بات بدیہی ہے جیسا کہ میں پچھلی مثال میں ثابت کر آیا ہوں کہ اصل نیکی ہے بدی صرف اعتداء کا نام ہے ، جیسے کہ آنکھ دیکھنے کیلئے دی گئی ہے اور دیگر فوائد کیلئے عنایت کی گئی ہے اس کو بد نظری کے کام میں لانا کانوں کو غیبت کے سننے پر لگانا زبان سے بد گوئی کرنا۔پس میں نےپوری طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ بدی اعتداءہے۔صراط مستقیم کیا ہے اب یہ ضرورت پڑے گی کہ یہ بات کس طرح معلوم ہو گی کہ صراطِ مستقیم کیا ہے اور کونساہے سو اول تو خود فطرت انسانی انسان کو اس کاپتہ دیتی ہے اور دوسرے اس کے پہچاننے کے لئے یہ سب سے عمدہ معیار ہے کہ جس قدر باتیں انسان کے دل میں تعظیم الہٰی پیدا کریں اور اس کومخلوق کی شفقت پر مائل کریں اورفساد اس کادل پھیر دیں تو وہ تو صراطِ مستقیم ہیں اور جو اس کے بر خلاف ہوں وہ سب گناہ اور بد باں ہیں اورانہی احکام کے اظہار کے لئے شریعتیں آتی ہیں تاکہ خدائے تعالیٰٰ انسان کو اپنی رضاء کے تمام احکام بتادےاور وہ باخبر ہو جائے کہ کونسی راہیں کمی کی اور کونسی زیادتی کی ہیں اور کونسی کان بين ذالك قواما (الفرقان : ۶۸) کی راہیں ہیں۔پس معلوم ہوا کہ انسانی اعمال کو ٹھیک کرنے والی شریعت ہی ہے کیونکہ وہ انسان کو ان راہوں سے واقف کرتی ہے کہ جو مستقیم ہوتی ہیں کیونکہ انسان کو معرفت ہی ایک کام کے کرنے پر تیار کرتی ہے اور وہی دوسرے کام سے روکتی ہے مثلا ًایک شخص کو جب علم کی معرفت حاصل ہو اور وہ اس