انوارالعلوم (جلد 1) — Page 175
انوار العلوم جلد | وام و ۱۷۵ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ پھر یہاں کی سلطنتوں کی حفاظت سپاہی کرتے ہیں سپاہی کرتے ہیں مگر بر خلاف اس کے الی گورنمنٹ اپنے سپاہیوں کی خود حفاظت کرتی ہے اور يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ: (۱۸) کی خوش آئند آواز انہیں سنائی جاتی ہے وہ زندہ رہیں یا فوت ہو جائیں دونوں حالتوں میں فائدہ میں رہتے ہیں۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ یعنی وہ لوگ جو اس طرح خدا کے ساتھ تجارت کریں اور اس کی فوجوں میں داخل ہو جائیں ان میں دلیری بھی چاہئے اور چاہئے کہ وہ دوسروں کو ماریں اور آپ مارے جائیں اور اپنی جانیں لفظ نہیں بلکہ عملاً خدا کے سپرد کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَ مَنْ أَوْ فِي بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ یعنی یہ سودا کر کے جو انعام اور نفع خدا نے تم کو دینے کا وعدہ کیا ہے کیا یہ سچا ہے یا جھو ٹا سو خد اتعالیٰ یہاں اپنے وعدہ کی نظیریں بتاتا ہے کہ ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ میں نے تین بڑی قوموں سے وعدے کئے تھے تو کیا وہ غلط نکلے ؟ جب نہیں تو پھر تم کیوں ڈرتے ہو جب خدا کی عادت ہے کہ وعدوں کا سچا ہے اور جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔ تو پھر یہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے کیوں پورا نہ ہو گا کیا خدا سے زیادہ کوئی اور بھی ہے جو وعدوں کا سچا اور پورا ہو۔ پس تم اپنی جانوں اور مالوں کو اس کے سپرد کرو۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ تم کو اس تجارت سے بہت فائدہ پہنچے گا اور تم ابد الآباد کی زندگی اور لا انتہا مال پاؤ گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ وعدہ میں نے کیا ہے اور بالکل حق اور درست کیا ہے یعنی قسمی طور ۔ طور سے ہے اور مؤمنوں کا حق ہے کہ اس سے وہ وعدہ پورا کروائیں اور یہ پہلے اہل توریت سے ہو چکا ہے یعنی موسی سے بھی ایک وعدہ ہوا تھا کہ ہم تیری قوم کو فرعون کے ہاتھوں سے نجات دیں گے اور تم کو بڑی ترقی دیں گے۔ چنانچہ جب حضرت موسی مبعوث ہوئے ہیں تو اس وقت بنی اسرائیل پر بہت ظلم ہوتے تھے۔ یعنی کل قوم کو آدھا دن اینٹیں بنانی پڑتی تھیں اور وہ اس ملک میں نہایت ذلت سے رہتے تھے مگر جب حضرت موسی نے آکر ان لوگوں کو خبر دی کہ اب خدا کا ارادہ تم کو چھڑانے کا ہے اور وہ اب تم کو آزاد کرے گا اور پھر جا کر فرعون کو کہا کہ تو اس قوم کو چھوڑ دے تو اس کا نتیجہ ایسا خطرناک ہوا کہ پہلے تو صرف آدھا دن انہیں کام کرنا پڑتا تھا اب فرعون نے یہ خیال کرکے کہ یہ لوگ آدھا دن جو خالی رہتے ہیں اس میں مختلف خیالات اٹھتے رہتے ہیں اور آزادی کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ آؤ ان کو سارے دن کام پر لگائے رکھو۔ حکم دیا کہ آج سے یہ لوگ اینٹیں پکانے کے لئے لکڑیاں بھی خود ہی اکٹھی کیا کریں اور نصف وقت اینٹیں بنائیں اور نصف