انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 173

انوار العلوم جلد 1 ۱۷۳ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں سودا کروں میں سے سب سے بڑے ہمارے آ سوداگروں میں۔ شروع کیا تو آپ ایک یتیم بچہ تھے کوئی آپ کو جانتا تک نہ تھا مگر خدا نے آپ کو در یتیم بنایا اور وہ مرتبہ دیا کہ اس وقت کرو اس وقت کروڑوں آدمی آپ کے نام پر جان دینے کو تیار ہیں آپ کو وہ چمک عنایت کی گئی کہ سورج کی روشنی ماند به شنی ماند پڑ گئی۔ آپ کو اس تجارت سے اس قدر فائدہ پہنچ پہنچا کہ اب تک کہ تیرہ سو برس گزر چکے ہیں آپ کے نام کی عزت کے لئے لوگ کوششیں کرتے ہیں۔ چنانچہ آج جو ہم لوگ اس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تو صرف اس لئے کہ اس برگزیدہ نبی کا نام دنیا سے مٹا جاتا ہے اسے پھر روشن کریں پس جبکہ آپ نے اس آیت کے موجب سودا کر کے اس قدر نفع اٹھایا تو ہمیں بھی چاہئے کہ جب کبھی کوئی سودا کریں تو دیکھ لیں کہ آیا ہم سے پہلے آنحضرت ا نے یہ سودا کیا تھا کہ نہیں تاکہ ہم بھی آپ کے قدم بقدم چل کر اسی طرح فائدہ اٹھا ئیں ۔ پس اگر ہم آپ کی خریدی ہوئی جنس کو خریدیں گے تو ضرور نفع اٹھائیں گے اور اگر وہ جنس خریدیں گے جو ہم سے پہلے فرعون و ابو جہل نے خریدی تھی تو ضرور ہے کہ ہم اپنی آئندہ زندگی سے بے توجہی کریں کیونکہ بے توجہی ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے اگر ایمان کامل ہو تو کبھی خدا کی طرف سے غفلت نہ ہو ۔ دیکھو ایک طالب علم کو یقین ہوتا ہے کہ میں ایک دن ضرور کامیاب ہوں گا اور ایک خاص امتحان پاس کر کے بہت عزت حاصل کروں گا اس کے لئے وہ راتوں کو جاگتا ہے اور اس کی غرض اس قدر ہوتی ہے کہ اس زندگی کے بقیہ ایام آرام سے گزر جائیں اور وہ یہاں تک محنت کرتا ہے کہ بعض اوقات اس کو سل اور دق ہو جاتی ہے ۔ مزدور سارا دن محنت کرتا ہے۔ دھوپ میں ٹوکری اٹھاتا اور سردی میں سرد گارے میں گھستا ہے یہاں تک کہ اس کا بدن ٹھٹھر جاتا ہے اور یہ سب اس امید میں کہ شام کو گھر میں جاکر آرام پائے گا۔ پس اگر انسان کو ایمان ہو کہ اس دنیا کی تھوڑی سی زندگی میں اگر میں خدا کی بتائی ہوئی تجارت کروں گا تو ابد الآباد تک نفع اٹھاؤں گا تو وہ بے توجہی کیوں کرے۔ پس اصل بات یہی ہے کہ گناہ گار انسان کو روز آخرت پر ایمان ہی نہیں ہوتا اگر اس کو ایمان ہو تو وہ بے توجہی کبھی نہ کرے۔ آنحضرت ا تھے ۔ جب آپ نے اس تجارت کو پس انسان کو چاہئے کہ اپنے لئے وہ مال جمع کرے کہ جو اس کے کام آئے نہ وہ کہ اس کے بعد اس کے ورثاء برباد کریں ۔ دنیا کا روپیہ اگر یہ جمع کرتا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء اسے بے طرح لٹا دیں گے اور ضائع کر دیں گے لیکن اگر یہ اس قرآن کی بتائی ہوئی تجارت کو کرتا ہے تو اس سے وہ نفع اٹھائے گا کہ اس کے بعد کوئی اسے برباد نہ کر سکے گا بلکہ مرنے کے بعد اس کے