انوارالعلوم (جلد 1) — Page 162
انوار العلوم جلد ) ۱۶۲ صادقوں کی روشنی تک وقت میں دنیا میں آئے جبکہ تاریکی اور جہل چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اور ہر ایک شخص جو ذرہ بھی عقل رکھتا ہو اس فکر میں تھا کہ میرے پاس کون سے ثبوت ہیں جو ہستی باری تعالیٰ کو ثابت کر سکیں اور سچے اور جھوٹے مذاہب میں میں کن اصول کے ذریعہ امتیاز کروں۔ اور ان بچوں کے حل کرنے کا کوئی راستہ ان کو نظر نہیں آتا تھا۔ اور جبکہ تمام مذاہب باطلہ کا زور اس قدر بڑھ گیا تھا کہ اسلام کا وجود دنیا سے اٹھنے کو تھا۔ اس وقت آپ نے مبعوث ہو کر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ دنیا کو اس زمانہ کے رنگ کے مطابق عقلی اور نقلی دلائل سے منوا دیا کہ کونسانذ ہب سچا ہے اور ساتھ ہی معجزات کے منکروں کو للکارا کہ تم میں سے جو آیات و نشانات الہیہ کا انکار کرتے ہیں میرے سامنے آئیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کر کے دیکھ لیں۔ اس وقت سے لے کر آپؐ کی وفات تا ہزاروں بلکہ لاکھوں نشانات آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے جن کے گواہ نہ صرف احمدی جماعت کے لوگ ہی ہیں بلکہ دیگر مسلمان اور غیر مذاہب کے لوگ بھی۔ چنانچہ عیسائی اور برہمو آریہ تک ان نشانات سے انکار نہیں کر سکتے پس باوجود اس قدر نشانات کی بارش کے اور نصرت الہیہ کے پھر بعض متشابہات پر اعتراض کرنا اگر غلطی نہیں تو اور کیا ہے اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ ہر ایک نبی کے ساتھ متشابہات کی پیشگوئیاں بھی لگی ہوئی ہیں۔ تاکہ بچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھایا جائے اور عظمند اور جاہل میں امتیاز کیا جائے ۔ چنانچہ قرآن شریف میں بار بار آتا ہے کہ آیات لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ یعنی نشان ہیں عقل والوں کے لئے جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ پر وہ رکھ لیا جاتا ہے تاکہ ایمان بالغیب کا ثواب بھی ان کو ملے اور ہمیشہ ایسے نشانات ہی اتارے جاتے ہیں جن کو عقلمند ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اور وہ جن کے دل بغض اور حمد کے زنگ سے آلودہ ہوتے ہیں اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ چنانچہ جب اس سنت کیمطابق حضرت اقدس کی پیشگوئیوں میں بھی کچھ متشابہات ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ سچائی کا فیصلہ ہمیشہ محکمات کی کثرت پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف سے صاف ثابت ہوتا ہے اور میں یہ ثابت بھی کر چکا ہوں۔ پھر حضرت صاحب کے معاملہ میں کیوں خلاف دستور اور طریقوں سے فیصلہ چاہا جاتا ہے۔ تریاق القلوب ، حقیقۃ الوحی اور نزول المسیح کو پڑھ کر دیکھو کہ کسی قدر بینات درج ہیں۔ کیا ان کو دیکھ کر مخالفین نے حضرت اقد اقدس کو قبول کر لیا جو متشابہات کے پورا ہونے پر زور دیتے ہیں۔ بلکہ ان کی ہٹ دھرمی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ان کا مطلب صرف اعتراض کرنے سے ہے ورنہ اگر حق کی تلاش ہوتی تو وہ ہزاروں پیشگوئیاں جو پوری ہوئیں اور جنہوں نے روز روشن کی طرح حضرت اقدس کے دعوی کو ثابت کر دیا ۔ کیا کچھ