انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 162

وقت میں دنیا میں آئے جبکہ تاریکی او ر جہل چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اور ہر ایک شخص جو ذرہ بھی عقل رکھتا ہو اس فکر میں تھا کہ میرے پاس کون سے ثبوت ہیں جو ہستی باری تعالیٰ ٰکو ثابت کر سکیں اور سچے اور جھوٹے مذاہب میں َمیں کن اصول کے ذر یعہ امتیاز کریں۔اور ان پیچوں کے حل کرنے کا کوئی راستہ ان کو نظر نہیں آتا تھا۔اور جبکہ تمام مذاہب باطلہ کا زور اس قدر بڑھ گیا تھا کہ اسلام کا وجو ددنیا سے اٹھنے کو تھا۔اس وقت آپ ؑنے مبعوث ہو کر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ دنیا کو اس زمانہ کے رنگ کے مطابق عقلی اور نقلی دلائل سے منوا دیا کہ کونسامذ ہب سچا ہے اور ساتھ ہی معجزات کے منکروں کو للکارا کہ تم میں سے جو آیات و نشانات الہٰیہ کا انکار کرتے ہیں میرے سامنے آئیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کر کے دیکھ لیں۔اس وقت سے لے کر آپؑ کی وفات تک ہزاروں بلکہ لاکھوں نشانات آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے جن کے گواہ نہ صرف احمدی جماعت کے لوگ ہی ہیں بلکہ دیگر مسلمان اور غیر مذاہب کے لوگ بھی چنانچہ عیسائی اور برہمو آریہ تک ان نشانات سے انکار نہیں کر سکتے ہیں باوجود اس قدر نشانات کی بارش کے اور نصرت الٰہیہ کے پھر بعض متشابہات پر اعتراض کرنا اگر غلطی نہیں تو اور کیا ہے اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ ہر ایک نبی کےساتھ متشابہات کی پیشگوئیابھی لگی ہوئی ہیں۔تاکہ سچ اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھایا جائے اورعقلمند اور جاہل میں امتیاز کیا جائے۔چنانچہ قرآن شریف میں بار بار آتا ہے کہ اٰیات لقوم یعقلونیعنی نشان ہیں عقل والوں کے لئے جس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ ایمان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ پر دہ رکھ لیا جاتا ہے تاکہ ایمان بالغیب کا ثواب بھی ان کو ملے اور ہمیشہ ایسے نشانات ہیں اتارےجاتے ہیں جن کو عقلمند ہی سمجھ سکتے ہیں۔اور وہ جن کے دل بغض اور حسد کے زنگ سے آلوده ہوتے ہیں اس کو نہیں سمجھ سکتے۔چنانچہ جب اسی سنت کیمطابق حضرت اقدس ؑکی پیشگوئیوں میں بھی کچھ متشابہات ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔سچائی کافیصلہ ہمیشہ محکمات کی کثرت پر ہوتا ہے۔جیساکہ قرآن شریف سے صاف ثابت ہو تا ہے اور میں یہ ثابت بھی کر چکا ہوں۔پھر حضرت صاحب کے معاملہ میں کیوں خلاف دستور اور طریقوں سے فیصلہ چاہا جاتا ہے۔تریاق القلوب ،حقیقۃ الوحی اور نزول المسیح کو پڑھ کر دیکھو کہ کس قدر بنیّات درج ہیں۔کیاان کو دیکھ کر مخالفین نے حضرت اقدسؑ کو قبول کرلیا جو متشابہات کے پورا ہونے پر زور دیتے ہیں۔بلکہ ان کی ہٹ دهرمی ساف ظاہر کرتی ہے کہ ان کا مطلب صرف اعتراض کرنے سے ہے ورنہ اگر حق کی تلاش ہوتی تو وہ ہزاروں پیشگوئیاں چو پوری ہوئیں اور جنہوں نے روز روشن کی طرح حضرت اقدسؑ کے د عویٰ کو ثابت کر دیا۔کیا کچھ