انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 156

وہ آپؑ کی زندگی میں آئے گا اس کی نسبت دو بارہ الہام ہو چکا تھا کہ وہ آپ کی موت کے بعد ہوگا۔چنانچہ اسی طرح ہوا اور میں وہ دونوں الہام جو اس بارہ میں ہوئے اوپر درج کر آیا ہوں۔پس یہ کہناکہ وہ زلزلہ حضرت صاحب کی زندگی میں کیوں نہ آیا ایک بے ہود و اعتراض ہے اور بے فائدہ ضدہے۔اب آخر میں اس قدر اور لکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دلائل تو ان لوگوں کے لئے ہوئے جو مسلمان ہیں یا عیسائی ہیں۔مگر آریوں کے لئے جو ان مذکورہ بالا پیشگوئیوں پر اعتراض کرتے ہیں کیا جواب ہیں۔سویاد رہے کہ اول تو میرے جواب قریباً کل کے کل ایسے ہیں جو خدا کے فضل سے کل قوموں کے لئے ہیں مثلا عمر کی نسبت شہادةصحیحہ کہ وہ پوری ہوئی اور الہام کے مطابق ہوئی۔نکاح کے متعلق یہ جواب کہ اس کا ایک حصہ اس صفائی سے پورا ہوا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور دوسرا اس لئے التواء میں پڑ گیا اور فسخ کیا گیا کہ جن کی نسبت سزا تجویز تھی انہوں نے رجوع کیا اور ایک اور صریح جواب یہ دیا ہے کہ خود حضرت اقدس ؑ لکھ گئے ہیں کہ وہ فسخ ہو گیا ا التواء میں پڑ گیا ہے۔اور زمانہ نے بتادیا ہے کہ وہ فسخ ہی ہو گیا ہے۔پس جب خود ملہم کہہ گیا ہے کہ وہ فسخ ہو گیا تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اور بیٹے کی نسبت بھی لکھ آیا ہوں کہ حضرت کےالہاموں سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ ان کے ہاں نہیں بلکہ آئندہ نسل سے ہو گا اور ایک خاص شان کاہو گا۔اور مولوی محمد حسین اور زلزلہ کی نسبت بھی ایسے ہی جواب دے آیا ہوں۔پس اگر ان کا کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو ان جو ابوں پر جو گذشتہ نبیوں کی مثالیں دیکر دیئے گئے۔سووہ الزامی جواب ہیں حقیقی نہیں حقیقی وہ ہیں جو سب کے لئے ایک ہیں۔اور دوسرے ان لوگوں کے لئے ہمار اصافجواب یہ ہے کہ ہمیشہ کثرت دیکھنی چاہئے۔پیشگوئیوں میں متشابہات بھی ہوتی ہیں۔بعض آئنده زمانہ کے لئے ہوتی ہیں۔پس ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔کثرت کی طرف نظر کرنی چاہئے۔سو جہاں حضرت اقدس ؑکی ہزاروں پیشگوئیوں روز روشن کی طرح پوری ہو ئیں۔اگر چند پیشگوئیوں کسی وجہ سے بعض لوگوں کو سمجھ میں نہ آئیں تو ان پر اعتراض کرنا محض ضد اور تعصب ہے اور صداقت کے طالب ان باتوں سے دور ہیں۔اور دوسری یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت اقدسؑ کے تین دعوے تھے ایک مہدیؑ کا ایک عیسیٰؑ کا ایک کرشنؑ کا اور اس وقت تین قومیں ہی زبردست ہیں مسلمان ،عیسائی اور ہندو۔پس ہر ایک قوم کے لئے جو معجزات و کھلائے گئے ہیں۔وہ انہیں کے رنگ کے ہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے نبیوں کے حالات چو نکہ معلوم ہیں اس لئے ان کے رنگ کی