انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 155

انوار العلوم جلد 1 ۱۵۵ صادقوں کی روشنی ایک ان میں سے بہت بڑا ہو گا۔ اور اس کی نسبت آپ نے لکھا تھا کہ وہ میرے سامنے آئے گا مگر پھر الہام ہوا کہ نہیں آئے گا۔ تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟ بیشک ہم مانتے ہیں کہ یہ الہامات بھی تھے کہ آپ کے سامنے بھی کئی زلزلے آئیں گے مگر وہ پورے بھی ہوئے۔ اور ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کے زلزلے اور بخارا اور کوئٹہ کے زلزلے جنہوں نے اب نے ایک دم میں ہزاروں جانوں اور کروڑوں روپے کا نقصان کر دیا ۔ انہیں الہامات کے مطابق تھے ۔ جو حضرت صاحب کی زندگی میں آئے اور کل الہامات کو پورا کر گئے ۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ الہام کے الفاظ تو یہ تھے کہ اُديك زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ یعنی میں تجھے سخت زلزلہ دکھاؤں گا۔ پس امریکہ اور بخارا کے زلزلے آپ نے کہاں دیکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو ایسے موقعوں پر استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن شریف میں آتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيلِ یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اصحاب فیل سے کیا کیا۔ حالانکہ اصحاب فیل کا واقعہ تو نبی کریم ا سے پہلے ہو چکا تھا۔ انہوں نے کب دیکھا کہ خدا نے ان سے کیا کیا۔ پس اس بات پر اعتراض کرنا کسی ناران کا ہی کام ہے دانا ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر ایک اور بات ہے۔ کہ اگر بفرض محال ہم مان ؟ امان بھی لیں کہ حضرت کا کوئی الہام نہ تھا کہ یہ زلزلہ تیرے بعد آئے گا۔ تو بھی کیا حرج ہے آپ کو بار بار الہام ہوتا ہے واما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ یعنی یا تو ہم بعض وعید کی پیشگوئیاں تجھے دکھلائیں گے یا وفات دیں گے ۔ یعنی بعض ان میں سے تجھے دکھائیں گے اور بعض تیرے بعد ظہور میں آئیں گی۔ پس اگر یہ پیشگوئی ٹل گئی ہو اور خدا نے کچھ مدت تک ملتوی کر دی ہو تو کیا تعجب ہے ۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی اطلاع خدا نے نہیں دی تو یاد رہے کہ یونس نبی کو بھی اسکی اطلاع نہیں ملی تھی۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یونس نبی کا قصہ اس معاملہ کو حل کر دیتا ہے ۔ کیونکہ ان سے بھی وعدہ تھا کہ چالیس دن تک ان کی قوم پر عذاب آئے گا اور ان کی زندگی میں ہو گا۔ مگر وہ عذاب ٹل گیا تو کیا اس سے یہ لازم آیا کہ یونس نبی ہمیشہ زندہ رہے۔ کیونکہ نہ وہ عذاب آئے گا اور نہ اسکی موت کا وقت آئے گا۔ پس جب ایسا نہیں تو اس موقعہ پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے ۔ خدا نے اس عذاب کو ایک مدت پیچھے ٹال دیا ۔ تو کیا اب ضروری تھا کہ وہ اس وقت تک حضرت اقدس کو زندہ رکھتا۔ مگر یہ جواب ہم مخالفین کے تمام اعتراضوں کو مان کر دیتے ہیں۔ ورنہ حقیقی جواب یہی ہے کہ حضرت اقدس کو بہت سے زلزلوں کی خبر دی گئی تھی اور الہام تھا کہ یہ تیری زندگی میں آئیں گے چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں وہ آئے بھی۔ اور ایک عظیم الشان زلزلہ کی جو خبر دی گئی تھی کہ