انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 154

کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔وہ اس کو فرعون کا معاملہ سمجھ لیں۔اور اول تو یہ اعتراض قبل ازوقت ہے مولوی صاحب ابھی زندہ ہیں ایمان لانے کا بہت وقت پڑا ہے۔اس پر اعتراض کرنا فضول ہے۔کیا مولوی صاحب فوت ہو گئے ہیں کہ کہاجا تا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے۔؟ تیسرا اعتراض زلزلہ کے بارے میں کیا جا تا ہے کہ حضرت اقدسؑ نے لکھا ہے کہ بہ زلزلہ میرے سامنے آئے گا حالا نکہ آپ فوت ہو گئے اور کوئی زلزلہ نہیں آیا۔سو یاد رہے کہ حضرت اقدسؑ کو کئی الہامات زلزلوں کے بارے میں آئے ہیں بعض جگہ تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زلزلہ آپؑ کے سامنے آئے گا۔اور بعض جگہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے بعد آئے گا۔سو اس کی یہ وجہ ہےکہ آپ ؑنے کئی زلزلوں کی خبر دی تھی بعض کی نسبت تو آپؑ نے خبر دی ہے کہ وہ میرے سامنے آئیں گے۔چنانچہ الہامات کے بعد بڑے بڑے خوفناک زلزلے آئے جنہوں نے زمین کو ہلا دیا۔اوردنیا کانپ گئی اور بہت سے انسان چیخ اٹھے کہ یہ کیا ہو نے والا ہے۔چنانچہ سول ملٹری گزٹ نے بھی لکھا کہ نہ معلوم دنیا کو کیا ہونے والا ہے۔چنانچہ جنوبی امریکہ ،بخارا اور کوئٹہ کے خوفناک زلزلے کچھ ایسے نہیں ہیں کہ نظر انداز کئے جائیں۔پس جہاں یہ الہام پورے ہوئے ہیں باقیوں کا بھی انتظار کرنا چاہئے اور ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر جو نصرت الحق میں دی گئی ہے اور اس میں حضرت اقدسؑ نے لکھا ہے کہ وہ میرے سامنے آئے گا تو اس کی نسبت یہ الہام بھی درج ہو چکا ہے کہ رب اخر وقت ھذایعنی اے میرے خدایہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دےاور اس سے پہلے حضرت اقدسؑ نے صاف لکھا ہے کہ \"آج زلزلے کے وقت کے لئے توجہ کی گئی کہ وہ کب آئے گا اسی توجہ کی حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی\"۔پس اس الہام سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ اس زلزلہ میں تاخیر ہوگئی ہے اور وہ کچھ مدت بعد واقعہ ہو گا اوریہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرت کے بعد ہو گا۔کیونکہ اس کا نظارہ ایسا خوفناک نظر آیا ہے کہ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اس زلزلہ کو ابھی ٹال دے یعنی میری زندگی میں نہ آئے۔کیونکہ اگر وہ آپ کی زندگی میں آتا تو پھر اس کا دوسرے وقت پر ٹلنا بے فائدہ تھا۔اور اس کا خوفناک نظارہ آپ کو دیکھناپڑتا۔پھر اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام ہے کہ اخرہ اللہ الی وقت مسمی یعنی خدا نے تیری دعاسن لی اور اس زلزلہ کو تیری زندگی کے بعد کسی وقت پر ٹال دیا۔پس اب اس پیشگوئی پر کس کواعتراض ہو سکتا ہے۔اگر حضرت اقدسؑ کو ایک زلزلہ کا الہام ہوتا تب تو اعتراض کی بھی گنجائش ہو سکتی تھی کہ وہ نہیں آیا۔مگر جب چار پانچ