انوارالعلوم (جلد 1) — Page xviii
انوار العلوم جلدا تعارف کتب آیات کی روشنی میں دیا اور پادری صاحب کے اس اصرار کہ انسان کو گناہ کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ کیونکہ یہ عین عدل ہے " کا جواب دیا کہ اگر عدل صفت کو مانا جائے تو عیسائیوں کے معتقدات و مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر آپ نے خدان اپ نے خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت اور مالکیت کے ذریعہ اس عقیدے کا بطلان ثابت کیا۔ اس کے بعد آپ نے عیسائیوں کے عقیدہ نجات کفارہ کی لغویت بیان کر کے مسیحیوں سے چار سوال کئے۔ ا ثابت کیا جائے کہ خدا تین ہیں۔ له اگر تین خدا ہیں تو کیا یسوع ہی وہ تیسرا خدا ہے کیونکہ بیٹے کا لفظ بہتوں پر بولا گیا ہے ۔ آدم کو بھی خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔ مسیح خوشی سے مرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ انجیل میں ہے کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو ( متی باب ۲۶ آیت (۳۹) اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسیح کی مرضی نہ تھی کہ وہ صلیبی موت مرے۔ دوسرے یہ کہ خدا نے زبردستی اس کو دار پر کھینچوایا۔ مسیح واقعی صلیب پر مر گیا تھا۔ کیونکہ انجیل کے مطابق قبر سے اٹھنے کے بعد وہ لوگوں سے ڈرتا پھرتا تھا۔ اگر وہ جی اٹھا تھا اور پھر خدا ہو گیا تھا تو اس ڈرنے کی کیا وجہ تھی۔ آپ نے اس بات کی نے اس بات کو ثابت کیا کہ مسیح اپنے آپ کو ابن اللہ نہیں بلکہ ابن آدم ہی پکارتا تھا۔ اور سولی پر کھینچے جانے سے قبل رو رو کر دعا کرتا تھا کہ اس پیالہ کو مجھ سے ٹال دے۔ پھر یہ کہ توریت میں تو کہیں کفارہ کا ذکر ہی نہیں ہے۔ آپ نے الزامی جوابات سے ثابت کیا کہ مسیحیوں کا نجات کے بارے میں عقیدہ بالکل غلط ہے۔ کفارہ ہے۔ کفارہ کا نجات سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ نہ مسیح مسیح خوشی سے صلیب پر چڑھا اور نہ وہ صلیب پر مرا۔ (۶) دین حق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مذہبی جھگڑوں کی کثرت کو دیکھ کر اس کا ایک