انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 150

انوار العلوم جلد 1 ۱۵۰ صادقوں کی روشنی نام مسلمان رکھا ہے۔ اب کیا ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کے باپ ن کے باپ کا نام ابراہیم ہوتا کانا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرت ابراہیم کی طرز پر کام کرتا اور ان کے بتائے ہوئے رستہ پر چلتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایسا ہے جیسے حضرت ابراہیم کا بیٹا۔ ور نہ یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی سینکڑوں قومیں ایسی ہیں جو اسلام میں داخل ہیں مگر حضرت ابراہیم کی نسل سے نہیں اور نہ ان کی قوم کا حضرت ابراہیم کے خاندان سے کوئی تعلق ہے پس جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک اس شخص کو جو مسلمان ہوتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے حضرت ابراہیم کا بیٹا قرار دیا اور بیٹے کے لفظ کو اس قدر وسیع کر دیا کہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی بھی کوئی شرط نہ رکھی تو پھر اگر آج اس خدا نے حضرت مسیح موعود کی نسل میں سے کسی کو انہیں کا بیٹا قرار دیا تو کیا حرج ہے؟ جبکہ آج میں کروڑ انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں خواہ عرب کے رہنے والے ہوں یا شام کے غرضیکہ ایران افغانستان ، ہندوستان، چین، جاپان کے علاوہ یورپ و امریکہ کے باشندے بھی حضرت ابراہیم کے بیٹے کہلا سکتے ہیں اور خدا تعالی قرآن شریف میں ان کو ابراہیم کے بیٹے قرار دیتا ہے تو ایک شخص کو اگر حضرت مسیح موعود کا بیٹا قرار دیا گیا تو کیا غضب ہوا پھر حدیث دیکھتے ہیں تو اس میں بھی بہت سے ایسے محاورات پاتے ہیں مثلاً معراج کی رات جب آنحضرت نے جبرائیل علیہ السلام سے حضرت ابراہیم کی نسبت پوچھا کہ یہ کون ہیں ۔ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ هُذَا ابوكَ الصَّالِحُ یعنی یہ تیرا نیک باپ ہے۔ اور ایسا ہی حضرت آدم کی نسبت فرمایا ۔ پس جب قرآن و حدیث سے یہ بات صاف ثابت ہے تو پھر حضرت اقدس پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کو ایک لڑکے کا وعدہ تھا جو پورا نہ ہوا۔ خدا کے وعدے ٹلا نہیں کرتے اور وہ پورے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی ہو گا۔ ان الہامات سے یہ مراد نہ تھی کہ خود حضرت اقدس سے لڑکا ہو گا۔ بلکہ یہ مطلب تھا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا شخص تیری نسل سے پیدا ہو گا جو خدا کے نزدیک گویا تیرا ہی بیٹا ہو گا۔ اور وہ علاوہ تیرے چار بیٹوں کے تیرا پانچواں بیٹا قرار دیا جائے گا۔ جیسے کہ حضرت عیسی ابن داؤد کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی وہ آپ کا بیٹا کہلائے گا اور اس میری بات کی تائید خود حضرت اقدس کے اس الہام سے بھی ہوتی ہے جو میں اوپر درج کر آیا ہوں یعنی کفی هذا جس کے معنی یہ تھے کہ حضرت اقدس کے ہاں اب نرینہ اولاد نہ ہوگی۔ چنانچہ اس کے بعد دو لڑکیاں ہوئیں اور لڑکا کوئی نہیں ہوا۔ اور خود حضرت اقدس کا بھی یہی خیال تھا۔ کیونکہ انہوں نے بھی ایک الہام جس میں بیٹے کی بشارت تھی اپنے پوتے پر لگایا تھا ورنہ اگر ان کو یہ خیال ہو تاکہ میرے ہی بیٹا ہو گا تو