انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 147

انوار العلوم جلد ! ۱۴۷ صادقوں کی روشنی ولادت کے وقت کے الہام ہیں اب ہر ایک غور کرنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ پہلے الہام سے تو ثابت ہوتا تھا کہ ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔ اور دوسرے الہام کے یہ معنی ہیں کہ یہ نسل یا یہ اولاد کافی ہے اور اب اس کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہو گی چنانچہ پہلے الہام کے مطابق مبارک احمد آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اور دوسرے الہام کے مطابق آپ کے ہاں اور کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوئی اور کی اور تین چار برس کا عرصہ دراز گذرا کہ آپ کو الہام ہوا کہ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلام اور اس الہام کو آپ نے اپنے پوتے پر لگایا کیونکہ جب دونوں کلام خدا کی طرف سے تھے۔ تو ان میں تناقض نہیں ہونا چاہئے تھا اور دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہونے چاہئیں تھے۔ چنانچہ مسلم نے بھی اسی بات کے خیال سے آئندہ بیٹے کے الہام کو اپنے پوتے پر چسپاں کیا۔ کیونکہ پوتا بھی بیٹے کے قائمقام ہوتا ہے۔ پس اس کے بعد لازم ہے کہ ہر ایک الہام جو آئندہ بیٹے کی نسبت ہو وہ آئندہ نسل کے لئے ہو ۔ اور پھر یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ زبان کے لحاظ سے بھی بیٹا آئندہ نسل کے کسی فرد پر بھی بولا جاتا ہے چنانچہ عربی میں اس طرح کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اکثر قبیلوں کے نام ان کے کسی بزرگ کے نام پر ہوتے ہیں۔ اور وہ اس کی اولاد کہلاتے ہیں۔ چنانچہ بنو ہاشم اور بنو قریظہ کے دو قبیلے جو مکہ اور مدینہ کے ہیں۔ مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک تو وہ قبیلہ ہے جس سے نور اسلام کا درخت پھوٹا اور ایک وہ ہے جس نے اس کے تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ اور پھر بنی امیہ کی خلافت اور بنی عباس کی سلطنت بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ اے دلوں کے اندھو ! غور کرو !! کیا ہارون الرشید اور مامون الرشید عباس کے بیٹے تھے یا خلیفہ مردان اور عمر بن عبد العزیز امید کے لڑکے تھے ؟ ہاں ذرا تدبر سے کام لو اور دیکھو! کہ حضرت اقدس کا ایک الہام ہے جو آج سے تمیں برس پہلے شائع ہو چکا ہے کہ يَنْقَطِعُ مِنْ آبَاءِكَ وَ يُبْدَءُ مِنْكَ یعنی آئندہ تیرے بڑوں کا نام اڑایا جائے گا اور تیری نسل کا نام تجھ سے مشہور ہو گا۔ اور دوسرے یہ کہ اوروں کی نسل ہلاک کی جائے گی اور آپ کی رکھی جائے گی۔ مگر وہ جو تقوی اختیار کریں اس سے مستثنیٰ ہوں گے مگر بہر حال آئندہ نسل آپ کے نام پر شروع ہو گی اور آپ کی اولاد کہلائے گی۔ سو اگر اس الہام کی بناء پر ایک آئندہ ہونے والے لڑکے کی بشارت اس رنگ میں دے دی گئی کہ وہ تیری ہی اولاد سے ہو گا تو کیا حرج ہوا۔ جب دنیا اپنے طور پر ایک شخص کو صدیوں گزرنے کے بعد بھی ایک دوسرے شخص کا بیٹا قرار دیتی ہے اور عمر بن عبد العزیز اور ہارون الرشید امیہ اور عباس کے لڑکے کہلاتے ہیں تو کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی نسل میں سے کسی