انوارالعلوم (جلد 1) — Page 143
لکھی گئی ہے۔اور نہ صرف حضرت اقدسؑ کی مختلف تحریروں سے لی گئی ہے بلکہ خود مخالفین سلسلہ کے بیانوں سے ثابت ہوتی ہے اور خاص کر جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب ایڈیٹر زمیندار کی رائے بہت معتبر ہے جو اپنا چشم دید حال سناتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو ۶۰ یا ۶۱ء میں دیکھا اور اس وقت آپ کی عمر قریبا ۲۴ً برس کی تھی۔میں اب بھی اگر کسی کو اعتراض ہو تو یہ اس کی سیاہ باطنی پر دلالت کرتاہے۔چاہئے کہ توبہ اور استغفار کرے تاکہ خدا کار حم اس کے شامل حال ہو۔اب ہم ناظرین کی آسانی کے لئے ایک اور طرح سے عمر کے سوال کو حل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات سے چوبیسں برس پہلے اطلاع دی گئی تھی کہ تمہاری عمراسّی کے قریب ہوگی اور اس الہام کے مطابق آپ قریبا ًبتیس سال تک زندہ رہے پھر رسالہ الوصیت میں آپ نے شائع کیا کہ اب میری عمر بہت ہی تھوڑی رہ گئی ہے اور میری موت کے دن قریب آگئے ہیں اور اس پیشگوئی کے مطابق اڑھائی سال کے اند ر فوت ہو گئے۔اب غور کرنا چاہئے کہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے چونتیس برس پہلے چالیس کی عمر میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ میری عمراسّی سال کی ہوگی اور یہ پیشگوئی ایک فوق العادت طور سے پوری ہو گئی کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ میں کل تک زندہ رہوں گا یا یہ سال مجھ پر سلامت گذرے گا مگر وہ جس پر خدارحم کرے اور اپنی کلام سے مشرف کرے۔چونتیس برس کی عمر ایک اتنی لمبی عمرہے کہ اس میں ایک بچہ جوان ہو کر اپنے ہاں پوتے پیدا ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفتری کہہ سکے کہ میں چونتیس پینتیس بریں اور زندہ رہوں گا۔اگر کوئی ایساد عو یٰ کر سکتا ہے تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو مگر شرط یہ ہے کہ وہ کہے کہ میں خدا سے خبر پاکر ایسا کہتا ہوں۔پس جبکہ ایک جھوٹے سے ایسا دعویٰ ہو نانا ممکن ہے تو سوچو کہ حضرت اقدسؑ نے خدا سے خبر پاکر ایسی خبر دی اور وہ اس کے مطابق چونتیس سال تک زندہ بھی رہے۔اور جب خدا نے خبر دی کہ اب تمہاری وفات قریب ہے تو انہیں دنوں میں فوت ہو گئے۔اور اس طرح دو پیشگوئیاں پوری ہو ئیں۔ایک تو عمر کی زیادتی کی کہ تم اس قدر عرصہ تک زندہ ر ہو گئے اور ایک وفات کی کہ اب تمهاری و فات قریب ہے۔پس حضرت صاحب کی وفات سے تو ان کی سچائی ثابت ہوتی ہے نہ کہ تکذیب۔تم بفرض محال مان لیتے ہیں کہ حضرت صاحب اپنی بتائی ہوئی عمر سے پہلے فوت ہو گئے مگر اس سے بھی تو کوئی شبہ آپؑ کی سچائی میں نہیں آتا بلکہ اور سچائی ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب حضرت مسیح موعود ؑنے الوصیت شائع کر دی اور