انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xvii

2 انوار العلوم جلدا ८ تعارف کتب اس تجارت یا بیچ کے لئے بعض شرائط بھی ہیں (۱) یہ کہ انسان ہر وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتار ہے اور اس طرح اپنے دل کے زنگ کو دور کرتا ہے (۲) خدا تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے عبادت کی طرف توجہ کرے (۳) حمد و شکر اور خدا تعالٰی کے احسانوں کو یاد کرنے کا التزام رکھے (۴) امر بالمعروف کرے (۵) حدود الہیہ کی حفاظت کرے ان امور پر عمل کرنے والا مخلص مومن کامیاب و کامگار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے بشار میں پاتا ہے۔ (۵) نجات پادری میکلین صاحب نے ۴- دسمبر ۱۹۰۹ء کو مشن کالج لاہور میں ایک لیکچر دیا تھا کہ نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے فرمان کے مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے یہ مضمون تحریر فرمایا جو ۲۵- دسمبر ۱۹۰۹ء کو تشعیذ الاذہان میں ”نجات" کے نام سے شائع ہوا۔ سب سے اول آپ نے گناہ کی تعریف بیان کی آپ نے فرمایا : " یاد رہے کہ گناہ نام ہے ان خداداد طاقتوں کے غیر محل استعمال کرنے کا جو کہ خداتعالی نے انسان کو عنایت فرمائی ہیں۔ مثلاً انسان کو بہادری عنایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص اس کو اس کے محل پر استعمال نہ کرے اور غیر محل اور ناجائز استعمال شروع کر دے تو اس کا نام ظلم ہو جائے گا اور وہ گناہ کہلائے گا"۔ یعنی نیکی صراط مستقیم ہے۔ اور بدی صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہونے کا نام ہے۔ پھر آپ نے قرآن کریم میں گناہ کے لئے آنے والے الفاظ کی حکمت بیان کی کہ ان سب میں زیادتی یا کمی کے معنی پائے جاتے ہیں۔ آپ نے صراط مستقیم اور گناہ میں تمیز کرنے کا طریق بیان فرمایا جس قدر با تیں انسان کے دل میں تعظیم الہی پیدا کریں اور اس کو مخلوق کی شفقت پر مائل کریں اور فساد سے اس کا دل پھیر دیں تو وہ تو صراط مستقیم ہیں۔ اور جو اس کے بر خلاف ہوں وہ سب گناہ اور بدیاں ہیں۔ آپ نے پادری صاحب کے اعتراض کہ انسان گناہوں کا پتلا ہے " کا جواب قرآن کریم کی "