انوارالعلوم (جلد 1) — Page 139
اتوار العلوم جلد 1 ۱۳۹ صادقوں کی روشنی تیسرا باب اب جبکہ میں عبد الحکیم اور شاء اللہ کے بارے میں کسی قدر مختلف پیشگوئیوں کے بارہ میں تفصیل سے واقعات لکھ آیا ہوں۔ اور ان ہوں۔ اور ان کی طرف سے جو اعتراض ہوتے ہیں خدا کے فضل سے ان کا جواب دے چکا ہوں۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس کی بعض ایسی پیشگوئیوں پر بھی کچھ لکھوں جو کہ مخالفین سلسلہ کے خیال میں اب تک پوری نہیں ہو ئیں یا ان کے پورے ہونے میں کچھ کسر رہ گئی ہے مگر ان کے شروع کرنے سے پہلے پھر میں اس اصول کی طرف ناظرین کی توجہ مبذول کراتا ہوں کہ ہر ایک نبی کی بعثت کی غرض دنیا میں اصلاح ہوتی ہے۔ اور اس کی تعلیم کو نظر انداز کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ بلکہ ہر حال میں پہلے اس کی تعلیم پر غور کرنا شرط ہے اور پھر بعد اس کے اس کی پیشگوئیوں پر نظر ڈالنی چاہئے۔ پس اسی اصول کو مد نظر رکھتے : ئے ان تمام اعتراضوں کا جواب دوں گا جو کہ مخالفین سلسلہ کی طرف سے حضرت اقدس پر کئے جاتے ہیں چنانچہ سب سے اول میں حضرت اقدس کی عمر کے بارہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ ہوئے اول - عام طور سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس کا ایک الہام تھا جو کہ انہوں نے بار ہا شائع کیا تھا کہ میری عمر اسی سال کے قریب قریب ہو گی حالانکہ وہ میعاد مقررہ سے پہلے فوت ہو گئے۔ اور یہ بات ان کی سچائی میں شکوک کی گنجائش پیدا کرتی ہے کیونکہ جب انہوں نے بڑے زور سے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ میری عمر اسی سال کے قریب ہو گی تو کیا وجہ کہ وہ پہلے فوت ہوئے۔ اگر یہ خبر ان کو خدا کی طرف سے ملی تھی اور وہ سچے نبی تھے تو چاہئے تھا کہ اس الہام کے مطابق فوت ہوتے ورنہ جب وہ اپنے الہام کے مطابق فوت نہ ہوئے اور اپنی بتائی ہوئی میعاد سے پہلے انتقال کر گئے تو مخالفوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کی تکذیب کریں اور