انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 134

انوار العلوم جلد 1 ۱۳۴ صادقوں کی روشنی اقدس پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے ۔ ایک تو ایسے لوگوں نے حملہ کیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے اور خدا سے دعا کی کہ وہ اس قانون کے مطابق بچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلائے۔ اور امید ظاہر کی کہ چونکہ حضرت اقدس نعوذ باللہ جھوٹے ہیں۔ اس لئے وہ ان کی زندگی میں ہلاک ہو جائیں گے ۔ اور چونکہ وہ بچے ہیں اس لئے وہ ان کے بعد تک زندہ رہیں گے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی دعاسنی اور فیصلہ کر دیا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے اور ان کو حضرت اقدس کی زندگی میں ہلاک کیا اور ذلیل کیا۔ اس کے بعد مولوی شاء اللہ نے یہ رنگ بدلا کہ جھو ٹا زیادہ عمر پاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے اس کو اس کے قول کے مطابق ہی جھوٹا ثابت کیا۔ اور حضرت اقدس کی سچائی پر مہر کی۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ کسی نبی کے آنے کا یہ مدعا نہیں ہوتا کہ وہ چند لوگوں کے مرنے کی پیشگوئیاں کر دے ۔ اور وہ پوری ہو جا ئیں یا یہ کہ چند اور غیب کی خبریں دے جو اسی طرح واقع ہوں بلکہ ان کی آمد کا اصل منشاء اصلاح ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے ان کے مخال مخالفین پر کئی طریقوں سے اتمام حجت کی جاتی ہے۔ اور دنیا پر اس رسول کی سچائی ثابت کی جاتی ہے۔ پس اسی طرح حضرت اقدس کے مخالفین سے ہوا۔ ان کا انکار یا ہلاک کرنا بعثت کا اصل سبب نہیں تھا۔ بلکہ ان کے ساتھیوں پر اور خود ان پر حجت قائم کرنے کے لئے انداری پیشگوئیاں کی گئی تھیں یا اور طریق سے فیصلہ لکھا گیا تھا۔ اور اصل مقصد آپ کی بعثت کا اصلاح قومی تھا۔ پس جب ثناء اللہ نے اور اس کے مریدوں نے ظاہر کیا کہ جھوٹے کو لمبی عمر ملتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ نے اس گروہ پر حجت قائم کرنے کے لئے اس طریق سے ان کو پکڑا تاکہ دنیا میں اصلاح کی صورت نظر آئے ۔ اب اگر کوئی کہے کہ اچھا پھر اتمام حجت سے نتیجہ کیا نکلا اور اس کا فائدہ کیا ہوا۔ جبکہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنتِ الہیہ اسی طرح ہے کہ پہلے ہر ایک سلسلہ حقہ کی مخالفت کی جاتی ہے اور بعد ازاں جب خوب اچھی طرح تبلیغ ہو جاتی ہے۔ اور لوگ الگ بیٹھ کر تمام بیٹھ کر تمام واقعات پر تدبر کرتے ہیں۔ تو ان کو سمجھ آجاتی ہے کہ کون حق پر ہے۔ اور کون جھوٹ کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ پس جبکہ کچھ عرصہ گذر جائے گا اور لوگ غور کریں گے تو خود بخود ان پر اصل راز کھل جائے گا۔ اور دوسرے ایسے لوگوں کا جواب وہی ہے جو وہ اس آیت کا ریتے ہیں کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) یعنی خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تو اپنی جان کو اس غم میں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ تیری بات نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے ۔ پس جب نبی کریم ال جیسے عظیم الشان نبی کے اتمام حجت پر بھی لوگوں نے نہیں مانا اور اس کا ان کو