انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 133

انوار العلوم جلد ! ۱۳۳ صادقوں کی روشنی خدا اور اس کے رسول پر ٹھٹھا کرتا ہے۔ اور فریب اور مکر دینا اس کا کام ہے۔ سچ سے متنفر ہے اور جھوٹ پر قربان ہے مگر ابھی اس کا وہ طریقہ نہ گیا۔ اور اس نے کوئی ہدایت نہ پائی اور سمجھا کہ خدا کا کلام اس پر سے ٹل جائے گا کیا یہ نہیں جانتا کہ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔ اور اس کو جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ یہ خود اپنے قول کے مطابق کذاب ثابت ہو اور اس کے بعد ذلت کے عذاب سے ہلاک ہوتا کہ دنیا دیکھ لے کہ مفتری کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور جھوٹے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ اس کے بعد میں ایک اور قول اس کے رسالہ مرقع قادیانی میں سے نقل کرتا ہوں جس سے میرے پہلے دعوی کی تائید ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص عبد الحق سرہندی کا مضمون اس میں شائع ہوا ہے اور اس میں اس شخص نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب اور مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ اگر جھوٹے کا بچے کی زندگی میں مرنا واقعی ضروری اور قانون الہی ہے جیسا کہ آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے تو معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد - کیا محمد رسول الله ال مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرمانے کے باعث اس جنرل رول (General Rule) کے زیر اثر ہیں؟ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! بریں عقل و دانش باید گریست ۔ اور اس مضمون کی اس نے قطعاً تردید نہیں کی اور کیوں کرتا اس نے تو خود اپنے آپ کو ہی الزام سے بچانے کے لئے یہ کوشش کی تھی۔ اب ناظرین اس مضمون کو دیکھ کر خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے معیار سچے اور جھوٹے کے پر کھنے کا یہ رکھا تھا کہ جھو ٹا لمبی عمر پاتا ہے اور یہ اس کے قول کے مطابق نہ صرف قرآن شریف سے ہی ثابت ہے بلکہ مسیلمہ کا زندہ رہنا اس کی دلیل ہے۔ پس جب اس نے خود فیصلہ کی بنیاد اس پر رکھی کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے بھی اس سے ویسا ہی سلوک کیا۔ کیونکہ کسی پر حجت قائم کرنے کے لئے چاہئے کہ کوئی ایسی طرز نکالی جائے جس سے اسے اتفاق ہو جائے۔ اس سے پہلے چند لوگوں نے جھوٹے کے لئے ہلاکت بتائی وہ حضرت اقدس کی زندگی میں ہلاک ہو گئے ۔ اس نے لکھا کہ مسیلمہ کذاب نبی کریم ال کے بعد بھی زندہ رہا اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ جھوٹے کو لمبی عمر دی جاتی ہے۔ پس خدا تعالٰی نے ویسا ہی کیا اور اسکو اسی کے قول کے مطابق قائل کیا اور نادم کیا اور ثابت کر دیا کہ شاء اللہ مسیلمہ کذاب کی طرح ہے اور ان لوگوں کی طرح ہے جن کی نسبت قرآن شریف میں ڈھیل دینے کا حکم ۔ م ہے۔ اور حضرت اقدس ہے۔ احمد کے غلام ہیں۔ اور ان کے پیرو ہیں اور ہرا اور ہر ایک بات میں ان کے قدم بقدم چلنے والے ہیں۔ اور ان سے بھی خدا وہی سلوک کرتا ہے جو پہلے نبیوں سے کرتا تھا۔ پس ناظرین جائے غور ہے کہ حضرت