انوارالعلوم (جلد 1) — Page 132
انوار العلوم جلد 1 ۱۳۲ صادقوں کی روشنی جھوٹوں کے دیر تک زندہ رکھتا ہے۔ اور انہوں نے اس عقیدہ کو مد نظر رکھ کے خدا سے دعا کی کہ چونکہ تو جھوٹوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔ اور صادق کو نصرت دیتا ہے اس لئے جھوٹے پر تیری لعنت ہو۔ اور جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور یہی اسلام نے مباہلہ کا طریق رکھا ہے کہ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ کہہ دیں پس خداوند تعالٰی نے ان کو اسی راہ سے پکڑا اور ان کے قول کے مطابق ہی ان کو سزادی اور جس طریق پر وہ اس کے رسول کو جھوٹا کرنا چاہتے تھے خود ان کو جھوٹا ثابت کیا۔ مگر اس کے بر خلاف شاء اللہ اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ تھا۔ کہ جھوٹے کو لمبی عمر ملتی ہے۔ اور کاذب ڈھیل دیا جاتا ہے۔ اور حضرت اقدس کی دعا کے مقابل پر اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء میں یہ شائع بھی کیا چنانچہ خدا نے اس کو ڈھیل دی۔ اور اس کے اعتقاد کے مطابق اس پر اور اس کے چیلوں پر اتمام حجت کیا پس کیا یہ ایک صاف بات نہیں کہ ایک شخص کے بر خلاف جب چند آدمی یکے بعد دیگرے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ تو جھوٹا ہے اور ہم سچے اور سچا جھوٹے کے مقابلہ پر فتح پاتا ہے اور جھوٹا اس کی زندگی میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ تو وہ خود اپنی اپنی باری میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی سچائی پر مہر کر جاتے ہیں۔ مگر ایک اور شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہے کہ سچا دیر تک زندہ رہتا ہے اور جھوٹا اس کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے بلکہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ اور وہ لمبی عمر پاتا ہے اور یہ اس کے کذاب مفسد اور دعا باز ہونے کی نشانی ہوتی ہے اور اسکے بعد خدا تعالیٰ ایسے کہنے والے کو ڈھیل دیتا اور اسی کے قول کے مطابق اس لئے اس کو زندہ رکھتا ہے کہ وہ شرارت میں حد سے بڑھ جائے ۔ اور گناہوں کو انبار در انبار اکٹھا کر لے تو کیا یہ اس کے قول کے مطابق اس کے کذاب اور مفسد ہونے کی دلیل نہیں ؟ اس سے پہلے کئی بدبختوں نے یہ نسخہ آزمایا کہ جھوٹے بچوں کی زندگی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور ان کو خدا نے ذلیل و خوار کیا۔ اور وہ بچے کے دیکھتے دیکھتے ہلاک ہوئے۔ اور خدا کے رو بررسیہ رو ہو گئے اور اپنی بد بختی پر مہر لگا گئے۔ اور اپنے جھوٹ کا ثبوت دے گئے لیکن ان کے بعد مولوی شاء اللہ نے پہلے قول کے برخلاف کہا کہ جھوٹے کی لمبی عمر ہوتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ (القلم: ۱۷) کے مطابق اس کو لمبی عمر دی اور اس کے ناک پر داغ لگایا۔ اور اس کے زندہ رہنے نے اس کے قول کے مطابق اس کو جھوٹا دغا باز مفسد اور نافرمان قرار دیا ۔ اور حضرت اقدس کی سچائی ثابت کی۔ پس باوجود اس کے کہ اس شخص پر یعنی شاء اللہ امرتسری پر خدا تعالی نے ہر طرح حجت قائم کر دی ہے۔ اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ شخص محض جھوٹا اور مفتری ہے اور کذاب ہے۔ اور