انوارالعلوم (جلد 1) — Page 131
قطعی ہو سکتا ہے چنانچہ خداوند تعالیٰ نے چاہا کہ اسی کے قول کے مطابق اس کو پکڑے اور ملزم کرے۔تاکہ ایسا ہو کہ وہ کام جس کے لئے حضرت مسیح موعودؑمبعوث ہوئے تھے پورا ہو اور دنیامیں اصلاح کا بیج بویا جائے۔پس چونکہ ان کی بعثت کی اصل غرضی ثناء اللہ کا مارا جانانہ تھی بلکہ سنت انبیاء ؑکے مطابق دنیا کی اصلاح تھی۔اس لئے خداوند تعالیٰ نے اسکو اسی کے قول کے مطابق پکڑاچنانچہ حضرت اقدسؑ کی دعا نقل کرتے ہوئے اہدلحدیث میں ایک نوٹ دیا ہے۔جو اس کے نائب اڈیٹر کی طرف سے ہے۔اور اس نے اس کی کوئی تردید نہیں کی اور نہ کبھی اس کے خلاف لکھا وہ نوٹ یہ ہے کہ’’ آپ اس دعویٰ میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں قرآن تو کہتا ہے کہ بد کاروں کو خدا کی طرف سے مہلت ملتی ہے۔قل من کان فی الضللةفلیمدد لہ الرحمٰن مدّا (مریم:۷۹)انما نملی لھم لیزدادوا اثما (آل عمران : ۱۷۹) اور وهم في طغيانهم يعمهون( البقر۱۶) و غیره آیات تمہارے ودجل کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو بل متعنا ھولاءو اٰباءھم حتیّٰ طال علیھم العمر (الانبیاء :۴۵)، جن کے صاف معنی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغاباز مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں پھرتم کیسے من گھڑت اصول بتاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔کیوں نہ ہو - دعویٰ تو مسیح،کرشن اور محمدواحمد بلکہ خدائی کا ہے اور قرآن میں یہ لیاقت ؟ ذلک مبلغھم من العلم پس اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ثناء اللہ مرجاتاتواس کے تابعین یا ہم خیالوں پر کیا اثر پڑ تایا ان پر إتمام حجت کیونکر ہوتی۔وو تو صاف کہہ دیتے کہ ہم تو پہلے ہی کہہ چکے تھے اور ہمار ااستادتم سے اتفاق رکھتا تھا کہ جھوٹ کو زیادہ عمرملتی ہے اور مفسد اور کذّاب ڈھیل دیئے جاتے ہیں پس ہم پر کیا اتمام حجت ہے اور اس کی تائید میں اہلحدیث۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۴ کاوہ نوٹ جو میں اوپر لکھ آیا ہوں پیش کر دیتے اور اس طرح وہ اصلاح جس کو مد نظر رکھ کر وہ دعاشائع کی گئی تھی نہ ہوتی۔پس خدا تعالیٰ نے خود انہیں کے مقولوں کے مطابق ان کو پکڑ اور اپنا کام پورا کیا کہ لا یفلح السّاحر حیث اَتٰی یعنی جھوٹے اور مفسد لوگ خواہ کوئی راہ اختیار کریں خداوند تعالیٰ ان کو کامیاب نہیں کرتا۔بلکہ انہیں کے اصولوں کے مطابق ان کو پکڑ تا ہے۔دیکھو یہ کیسی بات صاف ہے۔کہ غلام دستگیر قصوری اسماعیل علیگڑھی ،چراغ دین جمونی اور فقیر مرزاان کا یہ مذہب تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔اور -