انوارالعلوم (جلد 1) — Page xvi
انوار العلوم جلدا تعارف کتب آخر پر آپ نے حضرت مسیح موع موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کی حقیقت بیان فرمائی جو مخالفین کی نظر میں پوری نہیں ہوئی تھیں۔ (۴) ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں ؟ به بالا موضوع پر حضرت فضل عمر نے ۲۸ - دسمبر ۱۹۰۸ء ۱۹۰۱ء کے جلسہ سالانہ پر ایک نہایت پر مندرجہ مغز خطاب فرمایا۔ حضور نے إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبہ : ۱-۱۲) کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا ” ہر ایک شخص کو یہ سوچنا چاہئے کہ خدا نے مجھے کیوں پیدا کیا ہے اور جبکہ مرنا ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا جب اس چند روزہ زندگی کے لئے انسان اس قدر کوشش کرتا ہے اور تدبیریں کام میں لاتا ہے ---- تو کیا اس لا محدود زندگی ---- کے لئے کوئی ضرورت نہیں اور کیا ہمیں اس کے لئے کچھ بھی تیاری نہیں کرنی چاہئے؟"۔ ، نیز حضور نے فرمایا انسان ایک ذرا سا سودا کرنے لگے تو بڑی احتیاط کرتا ہے اور ہمیشہ وہی خریدتا ہے جو مفید اور نفع رساں ہو پس کیسا افسوس ہے اس پر جو ایسی تجارت نہ کرے جس میں لاکھوں کا نہیں۔ کروڑوں کا نہیں بلکہ غیر محدود نفع ہے"۔ اسی قرآنی محاورے کے مطابق حضور فرماتے ہیں " پس انسان کو چاہئے کہ اپنے لئے وہ مال جمع کرے جو اس کے کام آئے نہ وہ کہ اس کے بعد اس کے ورثاء برباد کر دیں ۔۔۔۔ لیکن اگر یہ اس قرآن کی بتائی ہوئی تجارت کرتا ہے تو اس سے وہ نفع اٹھائے گا کہ اس کے بعد کوئی اسے برباد نہ کر سکے گا بلکہ مرنے کے بعد اس کے کام آئے گا۔ خدا تعالیٰ ایسے تاجروں کا خود خزانچی بن جاتا ہے پس جس کا خزانچی خود خد ا ہو اس کو اور کسی کی کیا ضرورت ہے ؟۔۔۔۔ جو اس طرح خدا کے ساتھ تجارت کریں اور اس کی فوجوں میں داخل ہو جائیں ان میں دلیری بھی چاہئے اور چاہئے کہ وہ ۔۔۔۔ اپنی جائیں لفظا نہیں بلکہ عملاً خدا کے سپرد کر دیں۔ حضور نے ایسی تجارت کرنے والوں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت کی کامیابیوں اور فتوحات کا ذکر فرمایا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے انہیں دشمنوں پر فتح عطا فرمائی اور غلبہ سے نوازا۔