انوارالعلوم (جلد 1) — Page 129
کار لوگ بدی میں حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔اور وہ ایسا غصہ میں ہو تا ہے کہ گویا کبھی بھی ایسا خشم ناک نہیں ہوا۔مگر ساتھ ہی وہ اسی وقت اور انہیں دنوں میں ایسا مہربان ہو تا ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے زیا دہ وہ پہلے بھی کبھی مہربان ہوا کیونکہ یہ وقت اس کے پیارے بندوں کے انعامات حاصل کرنے کا ہو تا ہے۔اور وہ جو بدیوں کو چھوڑتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب ہوتے ہیں اس کے بے پایاں رحم اور احسان کے لذیذ اور خوشبودار پھلوں کو کھاتے ہیں اور ایسے امن کی حالت میں ہوتے ہیں کہ گویا جنت ان کے لئے دنیا ہی میں اتر آئی ہے اس وقت دنیا سے بدی کووور کرنے اور نیکی کو پھیلانے کے لئے خدا اپنے بندوں میں سے کسی کو چن لیتا ہے اور اپنا کلام اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی رحمتیں اور برکتیں اس کے شامل حال کر دیتا ہے اور ہر حال اور ہر مقام میں اس کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو اس بندے کو دکھ دیتا ہے گویا خدا کو دکھ دیتا ہے۔اور وہ جو اس کے ساتھ ہوتا اور اس کے کام میں ہاتھ بٹاتا ہے گویا خدا کے ساتھ ہوتا اور اس کی مرضی کے لئے کام کرتا ہے۔پس اصل غرض جو ایک نبی کی بعثت کی ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ دنیا سے بدی اور بدکاری کو دور کیا جائے اور اس کی بجائے نیکی اور تقویٰ کو رواج دیا جائے اور بجائے شیطان کی سلطنت کے خدا کی سلطنت قائم کی جائے چنانچہ جو لوگ ان کی بعثت کی اصل غرض سمجھ لیتے ہیں وہ کبھی ٹھو کر انہیں کھاتے ہیں جبکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے آنے کی اصل غرض اصلاح ہے تو ہر ایک چشم بصیرت رکھنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان کے ہر ایک کام میں بھی اصلاح ہی مد نظر ہوگی۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کی تمام پیشگوئیاں اور معجزات بھی اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے ہوں گے۔پس جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی تو اب یہ دیکھنا چاہیئے کہ حضرت اقدس ؑ بھی اسی غرض کے پوراکرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور انکی رسالت سے اصل غرض خدا تعالیٰ ٰکی یہ نہ تھی کہ آ تھم مرے یا لیکھرام قتل ہو یا آسمان پر چاند اور سورج کو گرہن لگے یا زمین پر طاعون پھیلے یا کانگڑہ اور سان فرانسسکو میں زلز لے آئیں بلکہ اصل غرض یہ تھی اور اسی لئے دو مبعوث ہوئے تھے کہ اصلاح ہو۔اور اگر کوئی پیشگوئی کی جاتی تھی تو اس لئے کہ اصلاح ہو اور لوگ اس نشان کو دیکھ کر اس کی شناخت کریں۔اور اگر کسی کی موت کی خبر دی جاتی تھی تو وہ بھی اس لئے کہ حق کے دشمنوں پر ایک حجت قائم ہو اور سعید روحیں اصلاح حاصل کریں چنانچہ ہر ایک نبی کے وقت جو وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی تھیں اور بعض دفعہ التواء میں پڑ جاتی تھیں تو اس کی اصل وجہ بھی یہی ہوتی تھی۔کیونکہ