انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 124

انوار العلوم جلد 1 ۱۲۴ صادقوں کی روشنی مسلمان تو طاعونی موت کو بموجب حدیث شریف کے ایک قسم کی شہادت جانتے ہیں۔ پھر وہ کیوں تمہاری دعا پر بھروسہ کر کے طاعون زدہ کو کاذب جانیں گے ۔ * اور ان وجوہات کو لکھ کر اور اس آسان فیصلہ سے پہلو بچا کر آپ ان الفاظ میں صاف طور سے اس دعا سے انکار کر چکے ہیں ۔ کہ مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ اگر تم اس حلف کے نتیجہ سے مجھے اطلاع دو۔ اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں۔ اور نہ کوئی رانا اسے منظور کر سکتا ہے۔* اخبار الاحدیث ۱۲۶ اپریل ۷ ۱۹۰ء صفحہ ۲۴۵) اب دیکھنا چاہیے کہ مولوی ثناء اللہ نے اس دعا کے بعد اس فیصلہ سے صاف طور سے انکار کر دیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اس فیصلہ کا اثر سوائے میرے اور کس پر پڑ سکتا ہے۔ پس مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ اور آپ لکھتے ہیں کہ اگر عذاب مقرر کر دیا جائے تو میں مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے پر قسم کھا سکتا ہوں۔ نہیں تو مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں ۔ حالانکہ بار بار لکھا گیا ہے کہ خدا کسی کے منہ کی بات پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں۔ اور قرآن شریف سے عذاب کی تعیین دعا میں ثابت نہیں ہوتی۔ اور آپ نے یہ بھی لکھا کہ اس فیصلہ کو کوئی دانا منظور نہیں کر سکتا۔ اس پر مجھ کو بہت تعجب ہے۔ کیونکہ اب جبکہ مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں مولوی شاء اللہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے کیوں اس دعا کو لوگوں کے سامنے فیصلہ کے لئے پیش کرتے ہیں ۔ کیا وہ اس وقت دانا تھے۔ اور اب جاہل مطلق ہو گئے ہیں ۔ کہ اب اس فیصلہ کو منظور کرنے لگے ۔ کیا وہ اپنی ہی تحریر کے مطابق اب جاہل مرکب نہیں ٹھہرتے اور ان کی حماقت میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ کیونکہ اس وقت تو وہ صاف طور سے انکار کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ کوئی دانا اس فیصلہ اگر مسلمان اس وقت ایسا خیال کرتے ہیں۔ تو آپ ڈرتے کیوں ہیں آپ کے ہی بھائی بند طاعون ملعون کا لفظ لکھا کرتے ہیں۔ اسوقت شاید اور حالت میں ہوتے ہوں گے۔ حسد کا برا ہو یونہی ذکر کریں تو طاعون کو سو سو گالیاں دیں اور ہمارے مقابلہ پر آکر اس کو شہادت کی موت قرار دیں اگر یہ شہادت تھی تو حضرت عیسی نے اپنے دوبارہ آنے کی نشانی یہ کیوں بتائی کہ اس وقت طاعون پڑے گی۔ اگر اس کی موت ہر ایک کے لئے شہادت ہو تو مخالفین حضرت عیسی تو اس موت سے آخرت کا توشہ جمع کر لیں گے۔ افسوس یہ موت اگر شہادت ہے تو احمدیوں کے لئے کیونکہ ان کے نبی نے پہلے سے خبر دیدی تھی۔ کہ اب عنقریب اس ملک میں طاعون پڑنے والی ہے۔ اور وہ میری سچائی کا نشان ہو گی۔ پس اگر صحابہ کی طرح کوئی احمدی بھی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کے لئے شہادت ہے۔ نہ یہ کہ ملک کا ملک مر گیا۔ اور کہہ دیا کہ شہادت نصیب ہوئی۔ حالانکہ ایک مدعی نبوت اپنے آنے سے پہلے کہہ چکا ہو کہ طاعون میری سچائی ثابت کرنے کے لئے آنے والی ہے۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ افسوس ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ مباہلہ کے لئے صرف اتنا کہنا چاہئیے کہ لعنت الله عَلَى الكَذِبِينَ مگر یہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عذاب کی تعیین کرد - کیا یہ بد بخت اس بات کو نہیں سمجھتے کہ نبی کریم کے مخالفوں نے بھی تو کہا تھا نا مُطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً منَ السَّمَاءِ (الانفال : (۳۳) کیا ان پر یہی عذاب نازل ہوا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو پھر بھی کچھ عظمندی دکھائی تھی۔ کیونکہ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ اواتِنَا بِعَذَابِ الشعر (الانفال (۳۳) یعنی اگر منہ مانگا عذاب نازل نہیں ہو سکتا تو کوئی اور عذاب ہی ہم پر نازل ہو۔ اور اگر یہ لوگ یہ کہیں کہ نبی تو دعا میں عذاب کی تعیین کر سکتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ حضرت نوح کی دعا کو دیکھو کہ وہ کیا دعا کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے کسی عذاب کی تعیین کی ا ہے؟ نہیں ان کی دعا ایک بالکل سادہ دعا ہے کہ رَبِّ لا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا ۔ ينَ دَيَّارًا - نوح ۱۲