انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 118

انوار العلوم جلد 1 ۱۸ صادقوں کی روشنی کشتی اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہر دم آسمان تک بے شمار اے خدا تیرے لئے ہر زیرہ ہو میرا خدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار باوجود اس کے کہ وہ رات اور دن تمہارے لئے دعائیں کرتا تھا پھر بھی تسلی نہیں ہوئی۔ اور اب وہ خدا سے دعا کرتا ہے کہ اے خدا میرے دل میں اور بھی زیادہ تڑپ پیدا کر کہ میں اپنی قوم کے لئے آہ و زاری کروں اور ہر وقت میری آہوں کے شعلے آسمان تک پہنچیں ۔ اب اے ناظرین جو کچھ میں نے تمہیں کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔ اور چونکہ مضمون کی حد سے باہر آگیا ہوں۔ اس لئے پھر اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں اور عبدا عبدالحکیم کی نسبت کچھ تھوڑا سا اور لکھ کر مضمون کے دوسرے حصہ کو شروع کرتا ہوں۔ عبد الحکیم جس کو خدا کا رسول ہونے کا دعوی ہے جھوٹ اور افتراء سے کام لینے سے بھی باز نہیں آتا۔ اس نے اپنے رسالہ اعلان الحق میں یہ الہام شائع کیا ہے۔ کہ مرزا پھیپھڑے کی مرض سے ہلاک ہو گیا۔ اور پھر لکھتا ہے کہ اگر چہ اصل مرض جس سے مرزا کی ہلاکت ہوئی تھی یہی تھی۔ مگر مرزائیوں نے اس بات کو چھپائے رکھا۔ اور دنیا پر مرزا کے پھیپھڑے کی مرض کو ظاہر نہ ہونے دیا ۔ گویا کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس کو سل کی بیماری ہو گئی تھی۔ لعنت اللہ علی الکاذبین - اس قدر جھوٹ بولتے ہوئے اس شخص کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا اور شاید اس کو وہ دن بھولا ہوا ہے جبکہ خدا کے روبرو اس کو ان تمام بہتانوں اور تہمتوں کا جواب دہ ہونا پڑے گا مگر افسوس کہ شیطان نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے اور یہ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت اقدس کو نومبرے ۱۹۰ء میں موسمی کھانسی ہوئی تھی۔ یہ خبر عبد الحکیم کے شیطان نے بد ر اخبار میں پڑھ کر آپ کو جانتائی ۔ اور اس نے جھٹ یہ الہام بنالیا۔ کہ مرزا کو پھیپھڑے کی مرض ہو گئی ہے اور وہ اس سے ہی ہلاک ہو گیا۔ یعنی ہلاک ہو گا ۔ مگر شاید دوبارہ اس کو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ انہیں دنوں میں اچھے بھی ہو گئے تھے۔ اور جب دسمبر میں آپ نے یہ الہام بنایا تھا۔ اس وقت حضرت شفا یاب ہو چکے تھے اور یہ الہام آپ کے الہام بھیجنے والے نے اس خیال سے بتایا تھا کہ حضرت اقدس کثرت مطالعہ اور تصنیف کے کام میں تو لگے ہی رہتے ہیں اور عمر بھی بہت ہو گئی ہے اس لئے یہ کھانسی سل ہی ہو گی۔ مگر اسے کیا معلوم کہ لا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اتى خدا جھوٹے کو کبھی کامیاب