انوارالعلوم (جلد 1) — Page 117
انوار العلوم جلد 1 114 صادقوں کی روشنی سے ٹال دے اور تم ان مصیبتوں سے بچ جاؤ جو قریب ہے کہ خدا کے وعدہ کے مطابق دنیا کو گھیر لیں اور قیامت کا نظارہ تمہاری نظروں کے سامنے پھر جائے ۔ یہ نہ خیال کرو کہ ابھی عذاب کے آنے میں دیر ہے بلکہ سچائی کی مخالفت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور حق کے طرف داروں کو اس قدر دکھ دیا گیا ہے کہ شاید جب سے دنیا پیدا ہوئی ایسا کبھی نہیں کیا گیا ہو گا۔ اور وہ جنہوں نے خدا کے رسول کا ساتھ دیا اس قدر ستائے گئے ہیں کہ ممکن نہیں کہ ان کی آہیں آسمان تک نہ پہنچی ہوں۔ اور اس خدا کے برگزیدہ کی وفات کے بعد جبکہ چار لاکھ احمدی اپنے روحانی باپ کے سائے سے جدا ہو گئے اس قدر دشنام دہی اور سخت زبانی سے کام لیا گیا ہے اور اتنی ایذا رسانی کی گئی ہے کہ اس کا پورا علم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔ پس جبکہ ایک یتیم کے رونے کی آواز سے عرش عظیم کانپ جاتا ہے تو کیا چار لاکھ انسانوں کی دل آزاری سے اس میں جنبش نہ آئی ہو گی۔ خدا کا وعدہ اس کے رسول کی معرفت ہمیں پہنچ چکا ہے اور ہمیں اپنے وجود سے بڑھ کر اس پر یقین ہے۔ اور ضرور ہے کہ ایک دن ان تمام ظلموں اور دکھوں کا بدلہ لیا جائے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ طاعون ابھی ملک سے رخصت نہیں ہوئی اور آئے دن کے زلزلے ایک بڑے زلزلہ کی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ جس کی نسبت خدا کار سول پہلے سے اطلاع دے چکا ہے۔ پس اے نادانو خدا کے دن کے آنے سے پہلے تو بہ کرو کیونکہ اس وقت جبکہ عذاب سر پر آپہنچا تو بہ قبول نہیں ہوتی اور گریہ وزاری بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ پس تدبر کرد اور قرآن شریف کی اس آیت پر غور کر کے نصیحت پکڑو ۔ وَ إِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (بنی اسرائیل : (۵۹) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں کہ جس کو قیامت سے پہلے ہم ہلاک نہ کر دیں یا سخت موعود عذاب میں مبتلا نہ کریں۔ اور یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح مو کو خبر دی گئی ہے کہ یہ وعدہ نہیں ملے گا جب تک کہ خون کی ندیاں نہ بہادی جائیں۔ پس یہ وقت ہے کہ اپنے دلوں کو سنوارو اور تقویٰ اور طہارت اختیار کرو تاکہ خدا کے دن کے آنے سے پہلے تمہارا نام مغضوبین سے کاٹ دیا جائے۔ تم سمجھتے ہو کہ ہمارا اس سلسلہ سے کوئی دنیاوی مقصد ہے اور دنیاوی لالچ نے ہمیں اس کام کے لئے مجبور کیا ہے مگر میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح موعود کی دعاؤں نے ہمارے دلوں کو تمہارے لئے بے قرار کر دیا ۔ ہم نے تمہارے لئے اس کی تڑپ مشاہدہ کی اور ہمارے دل بھی غمگین ہو گئے۔ ان کے کلام کو پڑھو اور غور کرو کہ اس کا دل تمہارے لئے کیسا بے چین تھا۔