انوارالعلوم (جلد 1) — Page 114
انوار العلوم جلد ! ۱۱۴ صادقوں کی روشنی افسوس کی بات ہے۔ اور کس قدر شرم کا مقام ہے ۔ ہاں اس شخص کو تو چاہئے تھا کہ پیشگوئی کے غلط نکلنے پر سخت نادم ہوتا اور پریشان ہوتا اور توبہ کرتا اور پھر سچائی کی طرف رجوع کرتا اور خدا سے کلنے پر ہوتا اپنے گناہوں کی معافی مانگتا۔ مگر اس نے بر خلاف اس کے اپنے اس الہام کو جو پورا نہیں ہوا نظر پنے الہام پورا انداز کر دیا اور حضرت صاحب کی اجتہادی غلطی کو اپنے لئے مصدق قرار دیا ۔ کیا وہ شخص سچائی کا طالب اور حق کا جو یا قرار دیا جا سکتا ہے جو اپنے الہام کے جھوٹا نکلنے کو تو چھپائے مگر دوسرے کی اجتہادی غلطی پر خوشیاں منائے ۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شخص جو اپنی پیشگوئی کے مطابق فوت ہوا۔ اور جس نے اڑھائی سال اپنی وفات سے پہلے خبر دے دی ہو کہ میں تین سال کے اندر فوت ہو جاؤں گا اس کی وفات کو اپنے شیطانی یا بناوٹی الہاموں کے مطابق اپنی سچائی کا نشان قرار دیا جائے۔ اب میں اچھی طرح سے عبد الحکیم خاں کی دروغ بیانی اور القائے شیطانی کو ثابت کر آیا ہوں۔ اور میں نے لکھا ہے کہ گو اس شخص کو حضرت صاحب کی وفات کی پیشگوئی کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ کیونکہ خود حضرت اقدس آج سے اڑھائی سال پہلے اپنی وفات کی خبر دے چکے تھے اور اس کے بعد ان کے حق میں کسی کا پیشگوئی کرنا صریح شرارت پر دلالت کرتا ہے ۔ اور پھر اگر اس شخص نے پیشگوئی کی بھی تھی تو وہ از طرف شیطان تھی نہ از طرف رحمان کیونکہ اس شخص نے خود اپنی تصانیف میں اس بات کو مانا ہے کہ مجھ کو شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور جس کو شیطانی الہام ہوں اس کو رحمانی نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ خدا کا کلام نجس دماغ پر نہیں اترتا۔ اور پھر تیسری بات جو میں نے ثابت کی ہے یہ ہے کہ اس کی پیشگوئی جو اس نے پیسہ اخبار و غیرہ میں شائع بھی کر دی تھی غلط نکلی ہے۔ کیونکہ اس نے لکھا تھا کہ مرزا ۴ / اگست کو فوت ہو گا۔ حالانکہ ہمارے حضرت اقدس ۲۶ ر مئی کو فوت ہوئے اور یہ وہ تاریخ ہے جو میں نے ثابت کیا ہے کہ حضرت صاحب نے تبصرہ میں جو لکھا ہے کہ میری آنکھوں کے سامنے مر جائے گاوہ چودہ مہینہ والی پیشگوئی کی بناء پر تھا۔ کیونکہ اس نے لکھا تھا کہ حضرت اقدس چودہ ماہ میں فوت ہو جائیں گے ۔ پس اگر آپ اس میعاد میں فوت ہو جاتے تو مخالفین کی نظر میں نعوذ باللہ جھوٹے ٹھرتے ۔ اس لئے خدا کے کلام سے استدلال کر کے آپ نے لکھا کہ نہیں میں فوت نہیں ہوں گا۔ بلکہ تو میری آنکھوں کے سامنے ہلاک ہو گا۔ لیکن جب اس نے اس پیشگوئی کو خود ہی منسوخ کر دیا اور لکھ دیا کہ مجھے پہلی پیشگوئی کے بجائے یہ الہام ہوا ہے ۔ کہ مرزا ۲۱ ساون مطابق ۴ / اگست کو فوت ہو جائے گا تو خدا تعالیٰ نے بھی اسکو اسی رنگ میں جھوٹا کیا۔ یعنی بجائے ۴ / اگست کے حضرت اقدس کو ۲۶ / مئی کو