انوارالعلوم (جلد 1) — Page xiv
انوار العلوم جلدا ہمارے زخمی دلوں کے لئے ایک مرہم کا کام دیتی ہے اور اگر اسلام نہ ہو تا تو بخند اطالب حق تو زندہ ہی مر جاتے اور وہ جن کے دلوں میں محبت کا ذوق ہے ان کی کمر ٹوٹ جاتی۔ اور محبت ایک نا ممکن وجہ سمجھی جاتی۔ اور اس کو وہم سے موسوم کیا جاتا۔ کیونکہ جب لوگ دیکھتے کہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے کہ ہم محبت کر سکیں تو وہ محبت کے وجود میں شک لانے کے سوا اور کیا کر سکتے۔ خدا نے اسلام ساند ہب انسان کو عطا کر کے غمگین دلوں کو تسکین دی ہے۔ اور زخمی سینوں کو مرہم عنایت کی ہے۔ جب ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان دیکھتا ہے کہ وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں ایک ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے۔ اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے وہ سنتا ہے اور بولتا ہے اور پھر یہ کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے سے محبت کرنے والے کو بدلہ دے تو اس وقت وہ اپنے دل میں اس محبت کی وجہ سے ایک خوشی حاصل کرتا اور خاص لذت محسوس کرتا ہے۔ اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ ہم سب کو خدا کے ساتھ اخلاص اور محبت نصیب ہوا اور وہ لوگ جو کہ گمراہ ہیں ہدایت پائیں اور اس ہستی سے محبت کریں جو کہ محبت کے لائق ہے " آمین۔ (۳) صادقوں کی روشنی کون دور کر سکتا ہے تعارف کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مخالفین بالخصوص ڈاکٹر عبدالحکیم اور مولوی ثناء اللہ کے اعتراضات کے جواب میں حضرت فضل عمر نے ایک مضمون تحریر فرمایا جس میں ان اعتراضات کا مسکت و مدلل جواب دیا گیا۔ جو جولائی ۱۹۰۸ء میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ آپ نے فرمایا : " وہ آپ کی وفات ہے جس نے مجھ کو اس رس نے مجھ کو اس رسالہ کے لکھنے کی تحریک کی ہے۔ اور چونکہ مخالفین سلسلہ نے اپنی پرانی عادت کے مطابق اس موقع پر بھی بہت کچھ زہر اگلا ہے ۔ اور اپنے نفسانی گندوں کا اظہار کیا ہے۔ اور حضرت صاحب کی وفات پر بہت کچھ اعتراض کئے ہیں۔ اس لئے راقم عاجز کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کی کہ میں ان تمام اعتراضوں کا جو مجھ تک پہنچے ہیں۔ اور عام طور پر شائع کئے جاتے ہیں جواب دوں اور حتی الوسع مخالفین کی خباثت کو ظاہر کروں کہ وہ کن کن فریبوں اور جھوٹوں سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ اس رسالہ میں علاوہ دیگر مفید باتوں کے عبدالحکیم مرتد اور شاء اللہ کی لن