انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 109

انوار العلوم جلد 1 ١٠٩ صادقوں کی روش کی قلعی کھول گئے اور آپ کے الہامات میں ۲۶ / مئی تاریخ مقرر ہوئی تھی۔ سو اس تاریخ کو آپ نے وفات پائی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بچے اور جھوٹے کا فیصلہ ہے ۔ جو چاہے قبول کرے۔ ور نہ یاد رہے کہ کسی شخص کا کفریا ارتداد خدا اور اس کے نبیوں کی شان میں کوئی فرق نہیں پیدا کرتا۔ بلکہ خود ان کے کافراور ان سے ارتداد کرنے والوں کو کہنا پڑتا ہے يُلَيْتَنِي كُنتُ تُرَا با یعنی کاش کہ میں مٹی ہی ہو تا یا پیدا ہی نہ ہوتا۔ پس اب بھی وقت ہے جو چشم بصیرت رکھتے ہیں وہ خدا کے رسول کا اقرار کریں تا خدا ان کا مددگار ہو۔ ورنہ وہ دن آتے ہیں کہ انکار کرنے والے اپنے انکار کا مزہ چکھ لیں گے اور پھر سوائے پچھتانے کے اور کچھ نہ ہو سکے گا۔ چوتھی بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں اور جس سے عبدالحکیم کا دروغ ثابت ہوتا ہے یہ ہے کہ اس نے اپنے اشتہار اعلان الحق میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے تبصرہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں جو میری سچائی ظاہر کرتے ہیں کہا۔ اپنے د اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مؤاخذہ کرے گا۔ میں ۔ میں تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۷ ۱۹۰ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گاتا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔ اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے "۔ اور پھر لکھا ہے ۔ کہ ”دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا۔ اور نصرت وفتح تیرے شامل حال ہوگی ۔ اور دشمن جو تیری موت چاہتا ہے ۔ وہ خود تیری آنکھوں کے رو برد اصحاب فیل کی طرح نابود ہو جائے گا۔ اور تباہ ہو جائے گا ۔ ان فقرات کے لکھنے سے وہ نتیجہ نکالتا ہے کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے اور میں زندہ ہوں اور یہ میری سچائی کا نشان ہے ۔ مگر اس نادان کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ مرزا صاحب کی وفات سے اگر نعوذ باللہ ان کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اس سے اس کی سچائی کس طرح ثابت ہوئی ۔ فرض کرو کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب کی تمام پیشگوئیاں غلط ہو ئیں اور ایک بھی بچی نہیں ہوئی تو بھی اس کی صداقت ثابت نہیں۔ اور اس کی سچائی تو اس بات سے ثابت ہوتی تھی کہ اس کی اپنی پیشگوئی بھی کچی نکلتی جب اس نے مرزا صاحب کی وفات کی تاریخ ۴ / اگست مقرر کی۔ اور مرزا صاحب اپنی پیشگوئی کے مطابق ۲۶ / مئی کو فوت ہوئے ۔ تو یہ خود بخود جھوٹا اور کاذب ثابت ہو گیا۔ اب اس کا یہ عذر کہ مرزا صاحب کی ایک پیشگوئی سچی نہیں نکلی۔ تو اس سے اس کی سچائی ثابت ہوتی ہے محض ایک دھوکہ ہے۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ اشتہار تبصرہ اس وقت شائع کیا گیا ہے جب اس نے حضرت مرزا صاحب کی وفات کی میعاد چودہ ماہ مقرر کی تھی۔ اس وقت یہ لکھا گیا تھا کہ خدا نے دشمن کو جھوٹا کرنے کے لئے