انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 105

گا۔اس کے بعد حضرت اقدسؑ پر متواتر وحی ہوئی کہ بہت جلد تمہاری وفات ہونے والی ہے۔اس پرمیاں عبدالحکیم نے ایک دوسری پیشگوئی شائع کر دی جس میں چودہ ماہ میعار مقرر کردی۔یعنی تقریباسال بھر پہلی پیشگوئی میں سے کم کر دیا۔کیونکہ جب اس نے یہ پیشگوئی کی تھی۔تو اس وقت تین سال والی پیشگوئی میں سے قریبا آٹھ ماہ گذر چکے تھے۔پھر حضرت اقد سؑ کو کچھ ایسے الہام ہوئے۔تیری عمربڑھا دی گئی ہے۔اس پر آپ نے ایک اور الہام شائع کر دیا۔کہ اگر زیادہ سے زیاد و مہلت ملی تو وہ تین سال والی پیشگوئی کے متعلق ہو گی۔پھر جب حضرت اقدس ؑ کو موت کے الہام ہوئے اور بتایا گیاکہ اب تو بہت ہی قریب وقت آگیا ہے۔تو آپ کو جھٹ الہام ہوا کہ مرزا ۲۱ - ساون مطابق ۴گست کو فوت ہو جائے گا۔چنانچہ خداوند تعالیٰٰ نے اس مفتری کو ایسا پکڑا کہ سب کچھ کیا کر ایا بر بادہو گیا اور اس کی کذب بیانی کو ایسا ظاہر کر دیا کہ قیامت تک یہ سیاہی اس کے چہرے سے نہیں اترسکتی۔کیونکہ باوجود اس کے کہ اس نے بڑے وعویٰ سے پیشگوئی کی تھی کہ عین ۲۱ساون کو مرزافوت ہو جائے گا۔حضرت اقدسؑ ۲۶ مئی کو فوت ہوئے۔اور اس کو جھوٹا ثابت کر گئے۔پس اس شخص کا مفتری ہو ناصاف ثابت ہے۔کیونکہ پہلے اپنی موت کی خبر حضرت اقدسؑ نے دی تھی۔اور پھراس نے اور وہ بھی اس کی بتائی ہو ئی خبر غلط نکلی کیونکہ اس نے تین سال کی میعاد فسخ کرکے ۴اگست کی تاریخ مقرر کر دی تھی۔تو پھر ناظرین خودسمجھ سکتے ہیں کہ لعنت خدا کس پر پڑی۔مگر میاں عبدالحکیم کو کون سمجھائے۔ایک تو وہ حضرت صاحب ؑ کی پیشگوئیوں سے مضمون اڑاکر اپنی پیشگوئی بنا کر شائع کر دیتے ہیں۔یا یہ کہ ان کا الہام بھیجنے والا یہ کام کرتا ہے۔اور پھر دعویٰ اس بات کا کرتےہیں کہ میں خدا کار سول اور وقت کا مصلح ہوں۔تف ہے اس رسالت پر اور لعنت ہے اس اصلاح پرکہ اول تو چوری کر لی اور پھر شریفوں کے سامنے فخر کرنا۔مجھے افسوس تو اس بات پر آتا ہے کہ یہ شخص اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحبؑ کی وفات سے سچائی تو ان کی ظاہر ہوئی۔اور پیشگو ئی توان کی پو ر ی ہوئی۔پھر یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگا۔کیا اس میں شرم و حیا کا اتنا مادہ بھی نہیں رہا کہ یہ اس بات کو سمجھ لے کہ حضرت اقدس ؑنے تو اس کی پیشگوئی کے وجود سے پہلے اپنی وفات کی خبردی تھی ؟ اور کیا اس میں اتنی بھی عقل نہیں رہی کہ ا یہ لوصیت کے الفاظ کو سمجھ سکے ؟ اس کے وہ تمام وعاوی علوم و فنون کہاں گئے۔جب یہ اردو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا تو قرآن شریف کی تفسیر کیا لکھتاہے جو غیر زبان میں ہے۔اب ناظرین غور کریں کہ الوصیت میں حضرت اقدسؑ نے اس کی پیشگوئی سے بہت پہلے اپنی وفات کی خبروی تھی۔اور ایک الہام سے تین سال۔