انوارالعلوم (جلد 1) — Page 104
انوار العلوم جلد 1 ۱۰۴ صادقوں کی روشنی رہے اس وقت تک سلسلہ کو کامل ترقی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایسا ہی نبیوں کے زمانہ میں ہوا اور ہو تا ہے اور آئندہ ہو گا۔ مگر اس ظاہری حالت کو دیکھ کر نادان اور کم فہم لوگ ( جیسے میاں عبد الحکیم) سمجھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تباہ ہو جائے گا۔ اور وہ تمام کار روائی جو اب تک ہوئی برباد ہو جائے گی۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ اور وہ سلسلہ کچھ ابتلاء کے بعد اور بھی بڑھتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ اور پھر اس اشتہار الوصیت کے بعد کئی کئی رنگوں پر آپ کی وفات کی خبر دی گئی اور یہاں تک اس کو کھول دیا گیا جیسا میں پیچھے ثابت کر آیا ہوں سال اور مہینہ اور تاریخ تک بنادی گئی۔ پس ایسی صورت میں میاں عبد الحکیم کا یہ پیشگوئی کرنا کہ حضرت اقدس تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے ایک ذلیل مکر اور جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے ؟ ورنہ کم سے کم اس قدر تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ میاں عبدالحکیم پر شیطان نازل ہوتا ہے۔ اور جس طرح بعل کے نبیوں کی معرفت وہ خداوند تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں کی مخالفت کرتا تھا آج کل بھی اس نے ایسا ہی کام شروع کیا ہے۔ اور دنیا کو دھو کہ میں ڈالنے کے لئے سادہ لوح لوگوں کو پھیلانے کے لئے اس نے یہ کارروائی کی ہے۔ اور میاں عبدالحکیم کو بسبب اس کی دماغی بناوٹ اور اس بیجا غصہ اور غضب کے جو اس کی طبیعت پر حکمران ہے اس نے اپنے کام کے لئے چن لیا ہے۔ ورنہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شیطان ایک شخص کو خبر دے اور رحمان اس خبر کے دنیا میں شائع ہو جانے کے بعد میاں عبد الحکیم پر اپنا کلام نازل کرے ۔ اگر میاں عبد الحکیم کا خدا ایسا ہی طاقتور ہے تو شیطان اس سے زیادہ زبردست ہے ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی شان سے بالکل بعید ہے کہ وہ شیطان کی بتائی ہوئی خبر سن کر اپنے بندہ کو اطلاع دے ۔ بلکہ آج تک یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو گا کہ پہلے خدا تعالیٰ اپنے ایک بندہ کو ایک خبر دیتا ہے ۔ اور پھر اس سے سن کر شیطان اپنے دوستوں کو جاکر اطلاع دیتے ہیں۔ چنانچہ یہی معاملہ یہاں بھی ہوا ہے۔ اور میاں عبدالحکیم کے الہام کرنے والے نے پہلے حضرت اقدس کا الہام بدر الحکم اور ریویو میں پڑھا اور پھر ان کے کان میں جا کر پھونک دیا ۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ عبدالحکیم نے اپنے رسالہ ذکر الحکیم نمبر ۴ میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ میری وفات قریب ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالحکیم کو معلوم تھا کہ حضرت نے اپنی وفات کی پیشگوئی کی ہے۔ چنانچہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو حضرت اقدس نے خبر دی کہ میری وفات قریب ہے اور وہ دو تین سال کے اندر ہو گی ۔ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں اس پر عبد الحکیم خاں نے اپنی پیشگوئی شائع کر دی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا تین سال میں فوت ہو جائے