انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 102

ناظرین غور کریں کہ اس شخص نے کسی قدر جھوٹ اور فریب سے کام لیا ہے۔کیونکہ حضرت صاحب شائع کر چکے تھے کہ میری زندگی کے اب دو یا تین سال باقی رہ گئے ہیں اور عنقریب میں دنیا کوچھوڑنے والا ہوں پس اس نے اس بات سے فائدہ اٹھایا اور اشتہار دے دیا کہ مرزا صاحب تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔پس کیا کوئی انصاف پسند طبیعت اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ میں جو بڑے زور سے پیشگوئی کر چکا ہو کہ دو تین سال کے اندر ہی فوت ہو جاؤں گا اور خدا نے مجھے اس کے متعلق بار باروحی کی ہے اور اس قدر تواتر سے یہ وحی مجھ پرنازل ہوئی ہے کہ میری زندگی مجھ پر سرد ہوگئی ہے۔کوئی شخص پیشگوئی کرے کہ یہ شخص تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور یہ صادق اور کاذب کا ایک نشان ہو گا۔اور اگر ایسا واقعہ ہو جیسا کہ میں کہتا ہوں تو اس سے میری سچائی ثابت ہوگی۔پس کیا وہ شخص جو اس قد ر دغابازی سے کام لےاور دنیا کو دھوکہ دینا چاہے خد اکانبی کہلا سکتا ہے؟ ناظرین خود غور کر سکتے ہیں کہ اگر ایک مجلس میں زید اٹھ کر کہے کہ میرے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا ہے اور چند ماه باقی رہ گئے ہیں۔اور یہ بات سن کر بکرائے اور تم کھا کر کہے کہ میں خدا کانبی ہوں اور میری سچائی کا یہ نشان ہے کہ زید کے ہاں حمل ہے تو لوگ اس کو سوائے سودائی یا جھوٹے کے اور کیا سمجھیں گے۔جب مرزا صاحب نے اپنی موت کی پہلے سے خبر دی تھی اورجماعت کو اور دوسرے لوگوں کو اپنی وصیت سے اطلاع دے دی تھی۔اور ان کے الہاموں سےصاف ثابت ہوتا تھا کہ تین برس کے اندر۲۹/ مئی کو وہ فوت ہو جائیں گے۔تو پھر عبد الحکیم خاں کا ان کی موت کی نسبت پیشگوئی کرنا اگر ایک صریح مکر اور فریب یا شیطانی الہام نہیں تو اور کیا ہےکیونکہ اگر مرزا صاحب نعوذباللہ ہجھوٹے تھے تو ان کی موت کا الہام پہلے عبدالحکیم کو ہونا چاہئے تھاکیونکہ اس کو خبر دینے والا خدا تھا اور مرزا صاحب کو خبر دینے والا (نعوذ باللہ ) شیطان تھا۔مگر یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کو تو (نعوذ بالله ) شیطان نے پہلے خبر دے دی اور خدا تعالیٰ نےعبدالحکیم کو اس کے بعد خبردی - گویا کہ ان کی وفات کا پہلے تو شیطان کو علم ہوا اور پھر اس سے خبرپا کرحضرت اقدسؑ کو علم ہوا۔اور ان سے عبدالحکیم کے خدا نے سن کر عبدالحکیم کو خبردی۔(نعوذ باللہ من ہذا) اور اس بات کو تسلیم کر کے ماننا پڑے گا کہ عبدالیم کاخد ایک شیطان سے بھی کم علم رکھنےوالا ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک ایساگنده اعتراض ہے کہ اس کو ماننے والا کبھی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔اور ممکن نہیں کہ اس کا ایمان خدا پر قائم رہ سکے اور اگر آج نہیں تو کل ضرور یہ شخص