انوارالعلوم (جلد 1) — Page 101
انوار العلوم جلد 1 صادقوں کی روشنی باب اول اے ناظرین میں اس شخص کا رد لکھنے سے پہلے آ۔ پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک اول درجہ کا مک زبان آدمی ہے۔ اور اپنی تحریر اور تقریر کے وقت تہذیب و شائستگی کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے ۔ اور بات بات میں گالیاں نکالنا اس کا کام ہے۔ اور جب کسی مخالف کا ذکر کرتا ہے تو حد سے بڑھ جاتا ہے اور غصہ اس پر قبضہ کر لیتا ہے اور عقل اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ اور یہ وہ شخص ہے جو کہ حضرت مسیح موعود کا بیس سال تک مرید امرید رہا ہے۔ اور اس کا یہ دعوی رہا ہے کہ مرزا صاحب کی تائید میں مجھے الہام ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ اس بات کو شائع بھی کر چکا ہے کہ ایک شخص میرے رشتہ داروں میں سے جو مرزا صاحب کا مخالف تھا اس کی نسبت مجھے خبر دی گئی کہ اگر یہ مخالفت سے باز نہ آئے گا تو طاعون سے ہلاک ہو گا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ظہور میں آیا ۔ اور باوجود الہاموں اور خوابوں کے جو کہ یہ ان کی تائید میں پیش کرتا تھا صرف اس بات سے حضرت صاحب کا مخالف ہو گیا کہ اس نے ایک دفعہ آپ کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ ایک شخص جو نبی کریم" کو نہیں مانتا مگر اعمال صالحہ بجالاتا ہے اور خدا کی توحید کا قائل ہے وہ بخشا جائے گا۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے لکھا کہ یہ عقیدہ بالکل فاسد ہے ۔ خدا تعالیٰ نے نبی کریم الل کے ذریعہ دنیا پر حجت قائم کر دی ہے اور اب جو کوئی ان پر ایمان نہ لائے وہ بخشا نہیں جاسکتا کیونکہ اعمال صالحہ بغیر ان کی اطاعت کے نہیں ہو سکتے۔ اس پر یہ شخص بگڑ بیٹھا اور حد سے زیادہ بدظنی کرنے لگا اور بد زبانی میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا اور اس خدا کے مرسل کو جو اس کے جلال کو قائم کرنے آیا تھا اس قدر گالیاں دیں کہ کوئی زبان نہیں جو ان کا اعادہ کر سکے اور کوئی قلم نہیں جو ان کو دوبارہ تحریر میں لاسکے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک پیشگوئی شائع کی کہ میں صادق ہوں اور حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ جھوٹے ہیں اور جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کی میعاد تین سال بتائی۔