انوارالعلوم (جلد 1) — Page xiii
انوار العلوم جلد ا ۳ تعارف کتب آپ نے خدا تعالیٰ کی صفات کا تذکرہ کر کے ثابت کیا کہ کسی دوسرے مذہب میں خدا تعالیٰ کی اس قدر صفات بیان نہیں کی گئیں اور نہ اسلام کی بیان کردہ صفات میں کوئی دوسرا نذہب خوبیوں اور کمالات کے لحاظ سے شریک ہے۔ آخر پر آپ نے اسلام کے زندہ خدا کا یہ ثبوت پیش کیا کہ فقط اسلام کا خدا ہی وحی و الہام سے انسان کی آج بھی راہنمائی کرتا ہے۔ جس طرح کہ وہ پہلے کرتا تھا۔ اور یہی زندہ خدا کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ کتاب کے آخر میں آپ نے تحریر فرمایا : اب میں اپنے مضمون کے خاتمہ پر پہنچ گیا ہوں کیونکہ میں نے ثابت کیا ہے کہ غیر مذاہب کے خدا اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے محبت کی جائے اور ان کی تعلیم ناقص ہے که انسان اس پر عملدرآمد نہیں کر سکتا مگر ساتھ ہی یہ بھی ثابت کر چکا ہوں کہ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا اور اسلام کی تعلیم انسانی فطرت کے مطابق ہے اور خدا قادر مطلق ہے اور کل عیوب سے پاک ہے اور سب سے بڑی خصوصیت اسلام اسلام میں یہ بتائی ہے کہ اس میں محبت کرنے والے کو بالکل صاف جواب نہیں ملتا بلکہ خدا تعالیٰ اس کے امتحان کے بعد اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس محبت کی گرمی کو جو کہ محبت کرنے والے کے دل میں ہر ایک چیز کو جلا رہی ہوتی ہے اپنے تسکین وہ کلام سے ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سوزش اور جلن کو دور کرتا ہے جو کہ جواب کے نہ ملنے سے بپا ہوتی ہے اور اس طرح محبت اور بھی چمک اٹھتی ہے اور اس کے دل میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ میں خدا کے اور بھی قریب ہو جاؤں اور اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ یہاں تک نزدیک ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے اَنْتَ مِنِّی وَ أَنَا مِنْكَ یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا نام دنیا میں تیرے سبب سے ظاہر ہے اور تیری عزت میرے سبب سے ہے اور در حقیقت خدا تعالیٰ کے نام کا جلال دنیا پر ظاہر کرنے والے میں لوگ ہوتے ہیں جو کہ اس کی محبت کے دریا میں غرق ہوتے ہیں اور ان کی عزت صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں"۔ میں محبت الہی کے لفظ پر جس قدر سوچتا ہوں اسی قدر ایک خاص لذت اور وجد دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیارا ہے مذہب اسلام - جس نے ہم کو ایسی نعمت کی طرف ہدایت کی ہے۔ جس سے ہمارے دل روشن اور ہمارے دماغ منور ہوتے ہیں اسلام کی تعلیم