انوارالعلوم (جلد 1) — Page 91
خداوعدوں کا سچا اور وفادار اور صاوق خدا ہے۔وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے۔پرضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے۔جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبردی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا۔اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے۔جو دو سری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعاؤں میں لگے رہیں۔تادو سری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدایسا قادر خداہے۔اپنی موت کو قریب سمجھو۔تم نہیں جانتے کہ کس وقت دوہ گھڑی آجائےگی۔(رساله الومیت صفحہ ۸۔۷ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۵-۳۰۶) اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اب آپ کی زندگی کے بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اورقریب ہی وہ خدا کا پاک و جود ہم سے اٹھایا جانے والا ہے ، چنانچہ اسی الوصیت میں یہ الہام الہی درج ہیں کہ "بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس وان سب پر اداسی چھا جائے گی۔یہ ہو گا۔یہ ہو گا۔یہ ہو گا۔بعد اس کے تمهارا واقعہ ہو گا۔تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمار احادثہ آئے گا اور پھر آپ نے جماعت کی نازک حالت کو ملاحظہ کر کے اس خوف سے کہ کہیں یہ ابتداء میں نہ میں مندرجہ ذیل الفاظ میں آنے والے ابتلاؤں سے ان کو آگاہ کیا۔" مبارک وہ جو خدا کی بات پرایمان رکھے۔اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاوں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمهاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٰ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔وہ جو کمی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔اگر وہ پیدانہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اوران پر مصائب کے زلزلے آئیں گے۔اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھاکریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔وہ آخر فتح یاب ہوں گے۔اوربرکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایساایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق با بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کےپسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے" (رسالہ الومیت صفحہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۹)