انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 81

انوار العلوم جلد 1 ΛΙ محبت الهی نہیں ہوتی ۔ مگر ان لوگوں کی پیشگوئیاں ہمیشہ پوری ہو کر رہتی ہیں ہاں عذاب کی پیشگوئیاں بعض دفعہ ٹل جاتی ہیں مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ لوگ جن کی نسبت وہ پیشگوئی ہوئی ہو تو بہ کریں اور گناہوں سے بچیں اور اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے خدا سے عفو مانگیں اور اس صورت میں ان کی سچائی اور بھی صفائی سے ظاہر ہوتی ہے۔ دوسرا یہ فرق ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی پیشگوئیاں اپنے اندر ایک خدائی جلال رکھتی ہیں جن کے پورا ہونے سے ان کی بڑائی اور ان کے مخالفوں کی ذلت ہوتی ہے پھر ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ظہور کے وقت لوگ خواہ مخواہ ان کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ نجومیوں کی مخالفت کوئی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ مخالفت کرنے کا نتیجہ آخر یہ ہوتا ہے کہ دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں اور سب سے بڑی ان کی سچائی کی دلیل نصرت الہی ہوتی ہے یعنی دعاؤں کا قبول ہونا دوستوں کی تعداد اور فرمانبرداروں کی جماعت کا بڑھنا، دشمنوں کا پے درپے ہلاک ہونا اور زمینی اور آسمانی شہادتوں کا جمع ہو نا غرضیکہ یہ ایسے امور ہیں کہ عقلمند آدمی ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جبکہ وہ ایسا زمانہ دیکھے وہ آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا مدعی جھوٹا ہے یا سچا۔ اور اس کو خدا کی طرف سے وحی ہوتی ہے یا القائے شیطانی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابو بکر نے نبی کریم کا دعوی سنتے ہی قبول کیا اور فراست سے سمجھ لیا کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور اس زمانہ میں مولوی نور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فورا پہچان لیا اور ایمان لائے کہ یہ الائے کہ یہ شخص کاذب نہیں اور اس کا بدلہ ان لوگوں کو یہ ملتا ۔ ابدلہ ان لوگوں کو یہ ملتا ہے کہ خدا تعالی کے نزدیک باقی لوگوں کی نسبت زیادہ مقرب ہو جاتے ہیں مگر باوجود آسان ہونے کے ایسے لوگوں کا پہچاننا مشکل بھی ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مؤمن اور منافق میں فرق کرنے کے لئے لوگوں کو ابتلاء میں بھی ڈالتا رہتا ہے پس بڑا ہی دلیر ہوتا ہے وہ انسان جو کہ باوجود ابتلاؤں کے ایسے شخص کو قبول کرتا ہے اور آفات و مشکلات زمانہ سے بالکل بے خوف و خطر رہتا ہے۔ اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں کہ اسلام میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو وحی الہی سے مستفیض بھی ہوتے ہیں اور ان کی بدولت دوسروں کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ لوگ ان کی تصدیق کریں اور الہام پر یقین کریں کہ یہ بھی کچھ چیز ہے اور عام لوگوں کو بھی ان کے زمانہ میں بچی خوابیں آتی رہتی ہیں تاکہ وہ بھی الہام کے وجود میں شک نہ لائیں پس کیا ایسا مذہب قابل قدر ہے جو کہ خدا سے ہم کلام کروا کر انسان کی تسلی کرتا ہے یا وہ جس میں ہمیشہ کے لئے مکالمہ و مخاطبہ کا دروازہ بند کیا گیا ہے ؟ آریہ لوگ اپنی شوخی کی وجہ سے یہ اعتراض کیا