انوارالعلوم (جلد 1) — Page 61
عملی عقیدہ کو لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہر باایمان آریہ کا فرض ہے کہ وہ مردہ کو جلاتے وقت صندل عود اور کستوری وغیرہ کو کام میں لائے اور یہی نہیں بلکہ ڈیڑھ من روغن زرد بھی جلا کر خاکستر کرے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ عقیدہ ایساہے کہ جس پر عمل ہو سکے یا صرف ستیارتھ پرکاش کے صفحوں کو سیاہ کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ کتنے آریہ اس پر عمل کر سکتے ہیں یاکرتے ہیں اور غریب آدمی اس پر کسی طرح عمل کر سکتا ہے یا آریہ مت کے لحاظ سے غریب آریہ نہیں ہو تا اگر چہ پنڈت دیانند نے اس کے لئے جو کہ اتنی چیزوں کو مہیانہ کر سکے قاعدہ تو مقرر کر دیاہے اور ایک تجویز اس کو ایسی بتائی ہے جس سے وہ کامیاب ہو جائے مگر وہ اصل حکم سے بھی زیادہ مشکل ہے وہ یہ کہ ایسا شخص بھیک مانگے یا گورنمنٹ سے مدد چاہے مگر جب تک کہ وہ غریب جس کےہاں موت ہو گئی ہے تقریبا ڈیڑھ سو روپیہ مختلف شهر و دبار میں پھرکر اور پیسہ پیسہ اور کوڑی کوڑی جمع کر کے لائے گا لاش سڑے گی اور خاص کر طاعون کے دنوں میں کہ وبائی ہوا کی وجہ سے دوسری لاشیں بھی جلدی جلدی سڑ جاتی ہیں اور طاعون کے بیمار کی لاش تو چوبیس گھنٹہ کے اندر خراب ہوجاتی ہے پھر ایک لمبے عرصہ کی کوشش اور محنت کے بعد جو ایک شخص روپے جمع کر کے لایا بھی تو وہ کس کام آئے گالاش تو پہلے ہی خاک ہو جائے گی اور دو سری تجویز جو کہ گورنمنٹ سے مانگنے کی لکھی ہے وہ بھی عجیب ہے کیونکہ اول تو ایک عرضی گورنمنٹ کی خدمت میں د یےجاوے کہ مجھےفلاں فلاں چیزیں چاہئیں اور پھر وہاں سے منظوری ہو اور پھر روپیہ کے اس صورت میں بھی لاش سڑ جائے گی اور تعفن اور سڑاندھ کی وجہ سے دو چار اور کو بھی ساتھ لے جائے گی جن کے لئے پھر بھیک مانگنی یا گورنمنٹ کے پاس امداد کیلئے درخواست کرنی پڑے گی اور دوسرے یہ کہ اگرگورنمنٹ ہر ایک لاش کے لئے دو دو سو روپیہ دینے لگی تو کام چل چکا جبکہ یہی آریہ صاحبان چیختےاور چلاتے ہیں کہ ٹیکسوں سے رعایا پِس گئی ہے تو اس صورت میں نہیں معلوم اور کتنے ٹیکس لگانےپڑیں گے بلکہ پھر بھی خزانہ کو نقصان ہی ہو گا اور اگر ایسا گورنمنٹ منظوربھی کرے اور اس سےنقصان بھی نہ ہو تو کل کو سکھ اٹھیں گے کہ ہمارے مردے کے جلانے کے لئے پانچ سو روپیہ کی حاجت ہے اور پھر سناتن دھرم کہیں گے کہ ہمارے مردے کے جلانے کے لئے ہزار روپیہ کی حاجت ہے اور اس طرح گویا کہ گورنمنٹ کا کام مردہ جلانا ہی رہ جائے گا جو کہ اس کی شان سے بعیدہے اور پھر جنگوں کے موقعہ پر یہ قانون کس طرح چل سکے گا کیونکہ وہاں تو