انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 58

گزارتا ہے اور پھر ایک گناہ کے بدلہ میں جو کہ خدا نے نجات دیتے وقت رکھ چھوڑا تھالیکن اس گناہ کی سزا بھی اس کو نہیں دی تھی اس کو تناسخ کے چکر میں ڈال دیا جا تا ہے اس موقع پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایساکیا جا تا ہے جبکہ اس کا صرف ایک گناه رہ گیا تھا اور وہ نجات کے کنارے پر کھڑا تھا اور قریب تھا کہ اس دریا میں ہمیشہ کیلئے غوطہ مارے اور دائمی تکالیف سے بچ کہ پرمیشور نے اس کو ایک غوطہ دیا اور باہر کھڑا کر دیا کہ جا پھر تکالیف کےسمندر میں تیر۔کیا یہ ظلم نہیں کیا یہ صریح زیادتی نہیں اور پھر ایک ایسی چیز پر جس کا قدامت اور اپدیت میں ایسان ہی دعویٰ ہے جیسا کہ پر میشو رکا۔پھر جو اس کی مخلوق نہیں اور پھر وہ جو کہ پرمیشور کی کو ئی ضرورت نہیں رکھتی اگر پرمیشور نہ بھی ہو تو وہ خود بخود جڑ سکتی ہے اور مختلف شکلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے اور پھر یہی نہیں کہ اس طرح مادہ اور روح کو نجات حاصل کرنے سے روکا گیا ہےبلکہ نجات کے دوسرے قواعد بھی ایسے سخت اور کڑے مقرر کئے گئے ہیں کہ نجات ناممکن ہے۔کیونکہ ہر ایک جیو ہتیا پر جون کا چکر لگانا پڑتا ہے اور پانی جو کہ انسانی ضروریات سے مقرر کیا گیا ہےاس کے ہر قطرے میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں اور ہوا میں کیڑے ہوتے ہیں اور پھر یہ ہی نہیں بلکہ پنڈت دیانند کے مقرر کردہ قواعد کے رو سے ہر ایک چیز میں روح ہوتی ہے یہاں تک کہ پودوں اور درختوں میں بھی ہوتی ہے تو اس صورت میں جو چیز انسان کھائے گا وہ جاندار ہوگی اور اس کاکھانا جیو ہتیا ہو گا اور جو شخص ایک بھی سانس لے بوجہ ان جرموں کی ہتیا کے جو کہ ہوا میں ہوتے ہیں سینکڑوں جو نیں بھگتے گا۔پس نجات ناممکن ہے اور خود پنڈت دیانند کو معلوم نہیں اتنے کیڑوں اور جانداروں کو ہلاک کرنے کی وجہ سے جو کہ وہ اپنی زندگی میں کرتے رہے کن کن جونوں میں جنم لینا پڑے گا۔چونکہ ہندووں کے بیان میں کافی طور سے تناسخ کا ردّہو چکا ہے اس لئے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں اور اب ہم عملی حصے کو دیکھتے ہیں کہ کیا وہ ایساحصہ ہے جو کہ انسانی فطرت کے مطابق ہے یا نہیں۔سو پہلے تو ان کے طرز معاشرت پر نظر ڈالنے سے ہم کو نیوگ کا ایسا خوفناک مسئلہ نظر آتا ہے جس پر عمل کرنا ایک شریف آدمی کا کام نہیں۔یہاں تک کہ خود آریہ صاحبان بھی اس سے کچھ پر ہیز ہی کرتے ہیں ہاں بعض بعض حد سے بڑھے ہوئے اس کو بھی ایک خوبی ہی سمجھتے ہیں مگر یہ شاذونادر ہی ہیں اور شاذ کا عام میں دخل نہیں اس لئے ہم یہی کہیں گے کہ عام آر یہ اس مسئلہ کےبر خلاف ہیں۔پھر جبکہ وہ خود اس پر عمل نہیں کرتے تو دوسرے مذاہب والے تو خواہ مخواہ اس سےنفرت ہی کریں گے۔شاید بعض ناظرین اس مسئلہ کی حقیقت سے ناواقف ہوں اس لئے ہم ان کےعلم کے لئے اس کی تشریع