انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 54

ہیں تو پھر خدا کی ضرورت کیارہی اورخدا سے ہمارے تعلقات کیونکر رہ سکتے ہیں وہ محبت کا تعلق جو کہ انسان کو خدا سے ہے وہ تو اسی صورت میں ہے جبکہ انسان اس کی مخلوق ہے اور جبکہ وہ خدا کے بے پایاں رحم اپنے پر دیکھتا ہے مگرجبکہ رحم تو خدا نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں کے چکر سے انسان کو وہ چھوڑہی نہیں سکتا۔اور خالقیت کابھی کوئی تعلق نہیں تو پھر انسان اس سے محبت کیو نکر کر سکتا ہے اور جبکہ خدا سے محبت کرنے کا کوئی مادہ موجود نہیں تو یہ محبت کہاں سے آگئی اور انسانی دل میں محبت کرنے کا پر میشور کو خیال کیونکر آیاجبکہ وہ جانتا تھا کہ انسان کی محبت مجھ سے ہوناناممکن ہے اور پھر یہ کہ انسان کے پیدا کرنے کی غرض کیا تھی؟ اس کی صفات تو اس بات کی متقضی ہے ہی نہیں کیونکہ نہ وہ رحمان ہے کہ اس کی صفت رحمانی چاہتی تھی کہ کوئی مخلوق ہو اور میں اس پر اس کے کسی کام کے لئے احسان کروں اور نہ وہ رحیم ہے۔کیونکہ جب وہ جونوں کے چکر میں انسان کو سرگردان کرتا ہے اور اتفاقاً انسان کبھی گناہوں سے پاک ہو کر (اگرچہ یہ ناممکن ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں) پرکاش کی سیر کا مستحق ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں نجات کے قابل ہو جاتا ہے تو پرمیشور آریوں کے خیال کے مطابق ایک گناہ اس کا رکھ چھوڑتا ہے تاکہ یہ میرے پھندے میں سے نکل نہ جائے اور اس بات کا ہوناایک رحیم انسان سے بھی بعید ہے۔چہ جائیکہ رحیم خدایا ایساکرے پس معلوم ہوا کہ خدارحیم بھی نہیں اور دوسرے یہ بھی نہیں کہ اس کی صفت خالقی اس کو انسان کے پیدا کرنے پر مجبور کرے اس موقعہ پر مخالف یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جوڑنے جاڑنے والی طاقت اس کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ایسی مخلوق پیدا کرے اول تو وہ خود ہی شرمندہ ہو گا بشرطیکہ کچھ بھی حیا رکھتا ہو کیونکہ خدا تعالیٰ سےیہ بہت ہی بعید ہے کہ صرف جوڑنے جاڑنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس کے علاوہ بالکل ناطاقت اوربے اختیار ہو اور دوسرے یہ بات نہ صرف سائنس دان یا علم طبعی کے جاننے والے ہی مانتے ہیں کہ ہر ایک چیز میں ایک کشش اتصال ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے حصے یا دوسری چیز کوکھینچتی ہے۔بلکہ خود آریہ صاحبان بھی اس کے قائل ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔پس اس طرح اس جوڑنے کی طاقت کا بھی ابطال ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب مادہ میں خودہی جڑنے کا مادہ تھاتو خدا کو یاپرمیشور کوبیچ میں دخل دینے کی کیا حاجت ہوئی۔مادہ نے تو خود بخود جڑناہی تھا اور مختلف صورتیں اختیار کرنی ہی تھیں پھرپرمیشور کا کیا تعلق اور پھرمادہ ازل سے موجود تھا اور خدا نے اس کو نہیں بنایاتھا تو اس میں ایک طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ پر قائم تھا اور خدا تعالیٰ کے اس پر قبضہ کرنے کے وقت ایک جنگ کی ضرورت تھی۔کیونکہ جبکہ ایک طاقت والی چیز دوسری پر قبضہ کرناچاہتی ہے تو