انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 53

کہ وہ ایسے ہی ہیں مگر اس بات کا معلوم نہیں کیا جواب دیں گے کہ کرشنؑ اور رام چندرؑ جی بیچاروں نے کیا قصور کیا تھا کہ یہ لگے ان کو بھی برا بھلا کہنے اور اس بات سے معلوم ہوتاہے کہ ان کو گالیاں دینے سے کام ہے خواہ کوئی سامنے ہو۔جب دیکھا کہ فلاں بزرگ کی بات ہمارے خیال کے بر خلاف ہے تو پیٹ بھر کے گالیاں سنادیں اور دوسرے لوگ تو خیر مخالف ہی تھے اپنے باپ دادوں کو بھی خالی نہیں چھوڑا جن کی بہت سی باتوں پر یہ اب بھی عمل کرتے ہیں اور ان کی بیویاں تو تمام کمال انہیں رسومات کی پابند ہیں جو پرانے زمانے سے چلی آتی ہیں۔پھر جبکہ گھر میں زور نہیں چلتا تو باہر دنیا پرکس طرح چل سکتا ہے۔یہی باتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے ہم نے خیال کیا کہ ایسے لوگوں سے کلام کرنا اور ان کی نسبت کچھ لکھنا گویا ان کو عزت دینا ہے اور اپنے بزرگوں کی نسبت گالیاں سنتا ہے مگراس لئے کچھ لکھنا ضروری سمجھا کہ ان کا فتنه روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے اور جیسا کہ چراغ بجھنے کےوقت ایک تیز روشنی دیکر گل ہو جاتا ہے۔یا ایک مرنے والا انسان مرتے وقت با وجود سخت پیارہونے کے کچھ دیر کے لئے بالکل تندرست ہو جا تا ہے اور اس میں غیر معمولی قوت اور طاقت پیداہو جاتی ہے اور نادان آدمی سمجھتے ہیں کہ اب یہ اچھا ہو گیا حالانکہ حکیم کی نظر میں یہ اس کی موت کی نشانی ہوتی ہے۔اسی طرح یہ لوگ جبکہ ویدک مذہب کی زیست کے دن ختم ہو گئے تو آریہ مت کی شکل میں ایک دفعہ چمکے ہیں۔یا ایک انسان کو مرتے وقت جو افاقہ ہو جاتا ہے اس کی طرح ہنود میں بھی افاقۃ الموت کی طرح یہ لوگ پیدا ہو گئے۔اور نادان لوگ ان کی تیزی اور طراری سے خائف ہو گئے ہیں کہ کیا در حقیقت ان میں کوئی روحانیت ہے جس کی وجہ سے ان میں اس قدر جوش وخروش ہے۔مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ یا مرتا ہوا انسان ہے کہ جو جلد ہی اس دنیاسے نابود ہو جائے گا ان کی حالت ظاہر کرتی ہے کہ جلدی ہی کچھ تو ان میں سے دہریہ ہو جائیں گےاور کچھ مسلمان - انہوں نے اپنے پرانے مذہب کو چھوڑ کر گویا کہ ایک قدم ترقی کی طرف بڑھایا ہےمگر اس قدم بڑھانے میں کچھ ایسی غلطی کی ہے اور وہ ٹھوکر کھائی ہے کہ کہیں کے کہیں جاپڑے ہیں۔اس فرقہ نے ہنود میں ایک بڑی اصلاح کی ہے کہ بت پرستی کو ترک کر دیا ہے مگر ساتھ ہی ایک ایسی خوفناک غلطی کر بیٹھے ہیں کہ اس پر غور کرنے سے بدن کانپ اتا ہے یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ روح اور مادہ ایسے ہی ازلی ہیں جیسے کہ خدا اور یہ مخلوقات نہیں بلکہ خود بخود ہیں۔اس پر بڑا اعتراض ہوتاہے کہ پھر خداخد ا کیوں ہے۔روح اور مادہ تو پہلے سے موجود