انوارالعلوم (جلد 1) — Page 45
خدا تعالیٰ کی وہ غرض بھی پوری ہوجائے گی جو کہ اس نے انسان کے پیدا کرنے میں رکھی تھی پس تعلیم کا پورا ہونا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ الہام و وحی کا سلسلہ بھی بند کیا جائے بیشک شریعت ختم سمجھی جائے گی لیکن خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کی خواہش جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے کبھی بھی رک نہیں سکتی کیونکہ محب یعنی محبت کرنے والا اس بات کو چاہتا ہے کہ جس سے میں محبت کرتا ہوں کسی طرح اس کا حال بھی مجھ کومعلوم ہو کہ وہ مجھ کو چاہتا ہے یا نہیں اور اس بات کے دریافت کرنے کے لئے ہر طرح کی وہ کوشش کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر اہل ہنود کے مذہب میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی ہے جس سےکہ محب محبوب کی محبت کو دریافت کر سکے اور اسی طرح گویا کہ کل عاشقوں کا خون کیا گیا ہے جو کہ اپنی جانیں اس بات کے لئے قربان کر دیتے ہیں کہ کسی طرح محبوب ہم پر ایک نظر ڈالے اور جبکہ ان کو تسلی ہی نہ ہوگی کہ پرمیشور ہماری محبت کو جانتا ہے یا نہیں تو ان کے دل کس طرح قرار پائیں گئے اور وہ کوشش جو کہ خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں کسی طرح جاری رہ سکےگی جبکہ ان کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ ہماری کوشش کہاں تک بار آور ہوئی یا کسی حد تک اس کےکامیاب ہونے کی امید ہے اور اس صورت میں تھوڑی مدت کے بعد عاشقوں کے دل کھڑے ہوجائیں گے اور طرح طرح کے خیالات اور وساوس میں پڑ جائیں گے یہاں تک کہ خود اس ہستی سے ہی انکار کر بیٹھیں گے۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں کثرت سے خدا کا انکار پایا جاتا ہےجیسا کہ آریہ جینی ناستک مت وغیرہ وغیرہ۔یہاں آریہ کالفظ پڑھ کر ناظرین تعجب کریں گے کہ ان کا نام دہریوں یا خدا کی ہستی کا انکار کرنے والوں کی فہرست میں کیوں لایا گیا ہے۔کیونکہ یہ خدا کا انکارنہیں کرتے بلکہ اقرار کرتے ہیں مگر میں آگے چل کر انشاء اللہ آریوں کے بیان میں ثابت کروں گاکہ آریہ در حقیقت خدا کا ہی انکار کرتے ہیں اور دہریت کے پھیل جانے کے علاوہ جو لوگ خدا پرایمان بھی لاویں وہ بھی اس یقین اور معرفت کے ساتھ خدا کو کب مان سکتے ہیں جیسا کہ وہ جن کےسامنے ہر وقت ایسے لوگ موجود ہیں جن سے کہ خدا ہم کلام ہوتا ہے کیونکہ شنیدہ کے بود ماننددیده- ان کو کیا معلوم کہ کسی زمانہ میں کچھ رشی گذرے تھے اور ان سے کچھ کام بھی کیا گیا ہے لیکن اب وہ سلسلہ قطعا بند کیا گیا ہے اور جو کہ اس بات پر کچھ بھی غور کریں گے ان کے دل میں فوراً یہ شک گذرے گا کہ کہیں یہ رشیوں کا ہونا اور ان سے خدا کا کلام کرنا ان قصوں میں سے تو نہیں جو کہ بچوں کے بہلانے کے لئے بنائے گئے ہیں کیونکہ اگر یہ