انوارالعلوم (جلد 1) — Page 648
ترجمہ : اے مومنو! ایک قوم وو سری قوم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور اس سے ہنسی نہ کرے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ایسا کریں۔کیونکہ ممکن ہے کہ دوسری عورتیں ان سے بہتر ہوں (یعنی نیکی کے لحاظ سے) اور نہ آپس میں ایک دوسرے کی عیب چینی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو سخت الفاظ سے پکارا کرو۔(یعنی گالیاں مت دیاکرو) کیونکہ یہ خدا سے عہد شکنی ہوگی اور یہ برانام ہے کہ ایمان کے بعد فاسق کہلائے۔اور جو اس کام سے باز نہ آئے گاوہ ظالم ہو گا۔(۴)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًاؕوَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍۚ-وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرً (النساء۲۰) ترجمہ۔اے مومنوں!تمہیں ہرگز جائز نہیں کہ تم اپنی بیویوں کا مال جبراًلے لو۔اور نہ تم کو جائزہے کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو اس کا کوئی حصہ واپس لینے کے لئے تم ان سے الگ ہو جاؤ (تاکہ تمہارے غصہ سے ڈر کردہ مال تمہارے سپرد کر دیں) ہاں اس وقت بے شک ان سے الگ ہو سکتےہو۔جب وہ کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کریں اور ان سے ہمیشہ نیک سلوک کیا کرو۔اور اگر ان کی کوئی بات تم کو ناپسند ہو تو اس کی وجہ سے ان سے بدسلوکی نہ کرو) یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ تم کو کوئی بات ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بڑی بڑی بھلائیاں پیدا کر دے۔(یعنی اگر تم عورتوں کی ناپسندیدہ حرکات رکھ کر بھی ان سے نیک سلوک کرو گے تو خدا تمہارے لئے سکھ کا سامان کردینے کاخود ذمہ لیتا ہے۔(۵) اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْن وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنََ۔(النحل:۹۱-۹۲) ترجمہ۔اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم عدل سے کام لو اور لوگوں سے احسان کرو اور ایسا احسان کرو کہ تم کو کسی نفع کا خیال نہ ہو اور منع کرتا ہے اس بات سے کہ تم وہ بدیاں کرو جو تمہاری جان کےمتعلق ہوں یا وہ بدیاں جن کا اثر لوگوں پر پڑتا ہو اور( بادشاہ کے خلاف )بغاوت کرنے سے اور تم کو