انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 631

اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں لیکن اصل منشا گا لی سے کمال طیش کا اظہا ر ہو تا ہے گو یا گا لی دینا بھی ایک قسم کامجاز ہو تا ہے جس کے ذریعہ انتہاءغضب کا اظہار کیا جاتا ہے۔جو لوگ نہایت غصیلے ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی با ت پر ان کا نفس جو ش میں آجاتا ہے وہ گالیاں بھی زیا دہ دیتے ہیں اور جو لوگ جس قدر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اسی قدر گالیوں سے بچتے ہیں کیونکہ ان کو اس قدرغصہ نہیں آتا کہ جس کو وہ عام الفاظ میں ادا نہ کر سکیں اور اگر آئے بھی تب بھی وہ اپنے نفس کو جھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ گالیاں درحقیقت ایک کمزوری ہے اور سخت طیش کے وقت انسان سے اس کا ظہور ہو تا ہے اور اس کا کو ئی فا ئدہ بھی نہیں ہو تا۔صرف گالی دینے والے کے لیے ان خیالات کا اس سے پتہ چلتا ہے جو وہ اس کے متعلق رکھتا ہے جسے گالی دیتا ہے۔غرض گا لی دینے سے کو ئی فا ئدہ حاصل نہیں ہو تا ہاں ایک پر غضب طبیعت کے جوش کا اظہار اس سے ہو جا تا ہے مگر پھر بھی اکثر لو گ غضب میں گالیاں دیتے ہیں چنانچہ بعض لوگ جو عام طور پر نرم طبیعت رکھتے ہیں جب ان کو بھی غصہ آ جا ئے تو اپنے مخالف کے حق میں گا لی دے دیتے ہیں اور جب کسی شخص سے سخت تکلیف پہنچے تب تو بڑے بڑے صابروں کے منہ سے بھی گا لی نکل جا تی ہے چنانچہ مسیح ناصر یؑ جیسا صابر انسان جس کی زندگی اس کے صبر اور اس کی استقامت پر دلالت کر تی ہے اور جس نے اپنے دشمنوں سے بڑی بڑی سخت مصیبتیں بر داشت کرکے بھی ان کے حق میں کو ئی سخت کلمہ نہیں کہا۔اسے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقعہ پر جب اس کے دشمنوں کی شرارت حد کو پہنچ گئی اور حملہ پر حملہ انہوں نے اس پر کیا تو آخر تنگ آکر ایک دن اسے بھی اپنے دشمنوں کے حق میں کہناپڑا کہ سانپوں کے بچےمجھ سے معجزہ طلب کر تے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح ؑ کے مخالف تھے وہ انسانوں کے بچے تھے لیکن ان کی شرارتوں نے حضرت مسیح ؑ کو اس قدر دق کیا کہ آخر تنگ آکر ان الفاظ میں انہیں اپنے غصہ کا اظہار کر نا پڑا۔اسی طرح ایک دفعہ اپنے حواریوں سے جو ایک دفعہ ان کو سخت تکلیف پہنچی تو اپنے ایک حواری کو انہوں نے شیطان کے لفظ سے یا د کیا حالانکہ وہ وہی حواری تھا جسے انہوں نے خود اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا۔غرض حضرت مسیح ؑ کی مثا ل سے یہ با ت صاف ہو جا تی ہے کہ کبھی بڑے سے بڑا صابر انسان بھی دشمن کی شرارت سے تنگ آکر ایسی گا لی دے بیٹھتا ہے۔لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ شا ن عطا فر ما ئی تھی کہ آپ ؐ کی زبان پر کبھی گا لی نہیں آئی حالانکہ جو مخالفت آپ ؐکی ہو ئی اورجو تکلیف آپؐ کے دشمنوں نے آپؐ کو دی وہ اس حد کی تھی کہ اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی تکلیف نہیں پیش کی جا سکتی