انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 630

کے عالی مقام پر پہنچے تھے۔جب آپؐ کو الہام ہوا تو آپؐ گھبرا ئے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام مجھ پر بطور آزمائش اورحجت نازل ہوا ہو اور یہ اپنا خوف حضرت خدیجہؓ کے آگے بیان فر ما یا جس پر انہوں نے آپؐ کو تسلی دلا ئی اور بتایا کہ جو اخلاق آپؐ کے ہیں اور جس مقام پر آپؐ ہیں کیا ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ ضائع کر تا ہے اور اپنا یقین ظاہر کر نے کے لیے انہوں نے قسم کھائی کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان کبھی ضا ئع نہیں ہو سکتا۔حجت اور آزمائش کے لیے تو ان کے الہام ہو سکتے ہیں جن کے اعمال میں کمزوری ہو یا متکبر ہوں۔جو شخص آپؐ جیسا غریبوں کا خبر گیر اور اخلاق حسنہ کا ظا ہر کر نے والا ہے کیا ان کو اللہ تعالیٰ تباہ کر سکتا ہے غرض حضرت خدیجہؓ کا جواب ظا ہر کر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں۔اس کایہی مطلب تھا کہ مجھے خوف ہے کہ میری آزمائش نہ ہو جس پر انہوں نے تسلی دی کہ آپؐ آزمائش کے مقام سے با لا ہیں۔آپؐ پر یہ الہامات خدا تعالیٰ کے انعامات کے طور پر نازل ہو ئے ہیں چنانچہ آئندہ کی وحی نے آپؐ پر روز روشن کی طرح کھول دیا کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے مقبول تھے اور آپؐ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ آپؐ کا کہنا کہ ‘‘میں کہاںاس الہام کا سنانے والا ہو سکتا ہوں’’ صرف تواضع کے طور پر تھا نہ کہ بو جہ سستی اور ڈر کے کیونکہ جس جرأت اور زور سے آپؐ نے کام کیا اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں تھی۔طہا رۃ النّفس۔سخت کلامی سے پر ہیزکسی کو گا لی دینے یا برا کہنے سے اس انسان کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن پھر بھی انسان با لطبع اپنے دشمن کےخلاف سخت الفاظ استعمال کر تا ہے اور ابتدائے عالم سے یہ مرض بنی نوع انسان میں چلی آئی ہے۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ گا لی دینا ایک لغو کام ہے۔سخت کلامی کر نا ایک فضول حرکت ہے مگر اس کے لغو اور فضول ہو نے کے باوجود گا لی دینے والے گالیاں دیتے ہیں اور سخت کلامی کرنے والے سخت کلامی کر تے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کو جب غصہ یا جوش آئے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اظہار کرے اور بہت دفعہ جب اس کے غصہ کی کو ئی انتہا ء نہیں رہتی اور جوش سے اس کی عقل ماری جا تی ہے تو وہ عام الفاظ میں اپنے غصہ کا اظہارنہیں کرسکتااور جب دیکھتا ہے کہ الفاظ میں میرے غصہ کا اظہارنہیں ہوسکتا تو پھر ایسے الفاظ بو لتا ہےکہ جو گو اس غصہ کے اظہار کر نے والے نہ ہوں لیکن ان سے یہ ثابت ہو کہ اس شخص کو سخت طیش ہے چنانچہ اس لئے سخت طیش میں تمام برا ئیوں کو انسان اپنے دشمن یا دکھ دینے والے کی طرف منسوب کر تا ہے حالا نکہ وہ سب برائیاں